Tuesday September 06, 2016

 

 CONTENTS

 Home

 News

 Editorial

 Opinion

 Fauji's Diaries

 Story

 Letters

 Community/Culture

 PW Policy

Ashraf's Articles-1

Ashraf's Articles-2

Ashraf's Urdu Poem

About Us

 
 
 

The Life of Jinnah

 

پاکستان کی معاشی تعمیر نو ممکن ہے

پاکستان کی معیشت کا سب سے بڑا مسئلہ آئی ایم ایف ، ورلڈ بینک، ورلڈ فوڈ آرگنائزیشن  اور ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن  کی شرائط ہیں  جن میں پاکستانی معیشت اس طرح جھکڑی ہوئی ہے کہ اْس کی اندرونی قوت نمو ان شرائط کی وجہ سے تقریباً نیم مردہ حالت  میں پہنچ چکی ہے۔

کسی بھی ملک کی معیشت کا پہلا راہنما اصول اْس کے اپنے عوام  کی خوشحالی ہونا چاہئے ۔ کوئی ایسی معیشت جو اپنے ملک کے عوام کی خوشحالی کو پس پشت ڈال کر ترقی کرنے کا دعویٰ کرے وہ یقیناً غلط ترجیحات کے راستے پر گامزن  ہے جسے ٹھیک راستے پر لانا حکومت وقت کی پہلی ترجیح ہونا چاہئے۔

اگر کسی ملک کے عوام کو دو وقت کی روٹی نہ ملتی ہو اور وہ اپنے ملک میں پیدا ہونے والی گندم زر مبادلہ کمانے کے لئے ایکسپورٹ کرنا شروع کردے تو اسے معاشی حماقت کے سوا کوئی اور نام نہیں دیا جاسکتا۔ بدقسمتی سے آئی ایم ایف، ورلڈ بینک، ورلڈ فود آرگنائزیشن اور ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن  جیسے بین الاقوامی ادارے جس طرح کی پالیسیاں پاکستان جیسے ممالک پر مسلط کرتے ہیں  اْس کا نتیجہ ایسی ہی بھوک ننگ کی شکل میں نکلتا ہے جس سے آج کل پاکستان کے عوام دوچار ہیں۔

اگر پاکستان اپنی معیشت ٹھیک خطوط پر استوار کرنا چاہتا ہے تو اس کےلئے پاکستان کو چند بظاہر مشکل لیکن حقیقتاً معاشی طور پر انتہائی مفید فیصلے کرنا ہوں گے۔

اس ضمن میں سب سے بڑی مشکل  آئ ایم ایف، ورلڈ بینک، ورلڈ فوڈ آرگنائزیشن اور ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن  سے معاشی پالیسی سازی کے عمل کو آزاد کرانا ہے۔

یہ بجا ہے کہ پاکستان نے آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک سے قرضے لے رکھے ہیں اور ورلڈ فود آرگنائزیشن اور ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن کے چارٹروں پر دستخط کئے ہوئے ہیں۔ لیکن اگر آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک سے لئے گئے قرضے اور ورلڈ فوڈ آرگنائزیشن اور ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن کے چارٹر کے تحت کئے گئے معاہدے پاکستان کے عوام کو بھوک اور افلاس کی وجہ سے خود کْشیوں پر مجبور کردیں تو ایسے قرضوں اور ایسے معاہدوں کا کیا فائدہ؟

پاکستان کی معیشت کی تعمیر ِنو کےلئے پاکستان کو ان سب اداروں کو معاشی پالیسی سازی کے عمل سے خارج کرکے  اپنی معاشی ترجیحات کو از سر ِ نو مرتب کرنا ہوگا۔

اس مقصد کے لئے پاکستان کو فوری طور پر جو چند اقدامات کرنا ہوں گے اْن میں سر فہرست پاکستان کے عوام کو بھوک اور ننگ سے بچانا ہوگا۔

ایسا کرنے کے لئے پاکستان کو کھانے پینے کی اشیا کی ایکسپورٹ فوری طور پر بند کرنا ہوگا۔ گندم ، چاول، دالیں  اور فروٹ ایکسپورٹ  کرکے کمائے گئے زر مبادلہ کا کیا فائدہ؟ اگر پاکستانی روٹی کے نوالے کو ترس رہے ہو۔ اْن کے بچے بھوک سے بلک رہے ہوں اور حکومت گندم ، چاول، دالیں اورفروٹ ایکسپورٹ کرکےزرمبادلہ کما  رہی ہو توایسا زر مبالہ پاکستانی معیشت کو طاقت ور بنانے کی بجائے کمزور کرے گا۔ اشیائے اغذیہ کی قیمتوں کو عوام کے دسترس میں رکھنےکے لئے حکومت کو اْن کی ایکسپورٹ فوری طور پر اس حد تک کم کردینی چاہئے  کہ اْن کی قیمتیں عوام کی قوت خرید میں آ جائیں۔

یہی اصول ٹیکسٹائل اور جوتوں اور کنسٹرکشن سے متعلقہ مصنوعات  کی ایکسپورٹ  کے بارے میں بھی اپنایا جانا چاہئے۔

اس سے اگلا قدم پاکستان کے صنعتی اور زرعی سیکٹر کو دوبارہ اپنے قدموں پر کھڑا کرنا ہے۔ یہ سستی اور قابل بھروسہ انرجی سپلائی کے بغیر نہیں ہوسکتا۔

پرائیوٹائزیشن نے پاکستان کے انرجی سپلائی سیکٹر کوتباہ کردیا ہے۔ پاکستان کو فوری طور پر انرجی سپلائی سیکٹر کو ڈی پرائیوٹائزکرنا ہوگا۔ اْن غیر ملکی کمپنیوں سے جان چھڑانا ہوگی جن کی وجہ سے پاکستان کا انرجی سیکٹر تباہ ہوا ہے۔ اس کے لئے اگر معاہدے توڑنے پڑتے ہیں۔ بین الاقوامی کورٹوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو پاکستان کو اس سے نہیں گھبرانا چاہئے۔  پاکستان کے صحت مند صنعتی اور زرعی سیکٹر سے کوئی چیز آگے نہیں ہے۔ اور یہ سستی اور قابل بھروسہ انرچی سپلائی کے بغیر نہيں ہو سکتا۔

پاکستان کو جاننا چاہئے کہ پرائیوٹائزیشن ایک تباہ کن عمل ہے ۔ خاص طور پر وہ پرائیوٹائزیشن جس میں غیر ملکی کارپوریشنیں  پاکستان کی صنعتیں ٹیک اوور کر لیں۔ ایسی پرائیوٹائزیشن نہ صرف پاکستان کی معاشی سیکورٹی کے لئے خطرناک ہے بلکہ پاکستان کی دفاعی سیکورٹی کے لئے بھی خطرناک ہے۔

اگر پاکستان کے سوچنے سمجھنے والے ذہن ، اگر اْن کو معاشی سوجھ بوجھ بھ ہو تو ، اس نقطے پر گہرائی میں جا کر غور کریں گے تو اْنہیں اس حقیقت کا ادراک ہو جائے گا۔

پاکستان کی ہرقسم کی موجودہ تباہی و بربادی میں اس پرائیوٹائزیشن کی عمل کا بہت  زیادہ بلکہ  یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ  بنیادی کردار ہے ۔  

پاکستان کی معاشی صحت یابی کےلئے پاکستان کوپرائیوٹائزیشن  کے عمل کو فوری طور پر روک کر ڈی پرائیوٹائزیشن کی پالیسی اپنانا ہوگا۔ اس عمل میں سب سے بڑی رکاوٹ آئی ایم ایف ، ورلڈ بینک، ورلڈ فوڈ آرگنائزیشن اور ورلڈ ٹریڈ آرگنائیزیشن کی طرف سے ہوگی۔ لیکن پاکستان کو اس رکاوٹ کو پس پشت ڈالنا ہوگا۔ اس کو ایک طرف رکھتے ہوئے ڈی پرائیوٹائزیشن کی پالیسیاں اپنانا ہوں گی۔

اِن فوری اقدامات کے بعد پاکستان کو طویل  مدت کے اقدامات  کرنے ہو ں گے۔ جن میں سر فہرست بجٹ بیلنس کرنا،  شہروں اور دیہاتوں  کی تنظیم نو کرنا، نیا سماجی ڈھانچہ تشکیل دینا،  تعلیم، صحت اور ٹرانسپورٹیشن اور نقل وحرکت  کے شعبے کی تنظیم نو اور تعمیر نو کرنا۔ صنعت اور زراعت کی جدید اصولوں کے مطابق تنظیم نو کرنا۔

ان اقدامات سے پاکستان کی معیشت تعمیر نو کی راستے پر گامزن ہو سکتی ہے۔ لیکن پاکستان کو ان مقاصد کی تکمیل  کے حصول پر رْک نہيں جانا چاہئے۔ بلکہ اصل مقصد ایک جدید اور ترقی یافتہ پاکستان کی تعمیرہونا چاہئے۔  

ان سب کاموں کے لئے  ایک سیاسی قوت عمل ضرورت ہے ۔ پاکستان کے موجودہ  سیاسی نظام میں اس سیاسی قوت عمل کی گنجائش نہیں ہے۔

اگر اس سیاسی نظام میں صحیح قیادت میسر آجائے تو یہ ممکن ہے لیکن اس سیاسی نظام میں صحیح قیادت کا برسراقتدار آنا تقریباً ناممکن ہے۔

 

     

  

Pakistan Weekly - All Rights Reserved

Site Developed and Hosted By Copyworld Inc.