Tuesday September 06, 2016

 

 CONTENTS

 Home

 News

 Editorial

 Opinion

 Fauji's Diaries

 Story

 Letters

 Community/Culture

 PW Policy

Ashraf's Articles-1

Ashraf's Articles-2

Ashraf's Urdu Poem

About Us

 
 
 

The Life of Jinnah

 

 

پاکستان کے سیاسی مجاور اور جمہوریت

کے اشرف

 

جمہوریت پاکستان کے عوام کا خواب ہے جسے پاکستان کے عوام ہر صورت میں پورا ہوتے دیکھنا چاہتے ہیں لیکن بدقسمتی سے جو لوگ اس خواب کی تکمیل میں سرخیل بنے ہیں وہ ایسے سیاسی مجاور ہیں جو جمہوریت سے زیادہ اپنے سیاسی مزاروں کی رونق قائم رکھنے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ اور ان سیاسی مزاروں کی رونق بھی وہ اس لیے قائم نہیں رکھنا چاہتے کہ ان کے زریعے پاکستان کے عوام کے خوابوں کی تکمیل ہوسکے بلکہ وہ اس رونق کے زریعے اپنے جرائم کی فہرست میں اتنی طوالت پیدا کرنا چاہتے ہیں کہ اخلاق، قانوں اور انصاف کو ان کی گرد تک پہنچنے میں بھی اتنی دہایاں لگ جایں کہ وہ کبھی ان کے دامن  تک نہ پہنچ سکے۔

اس ضمن میں پہلے زرداری صاحب نے لندن میں بیٹھے ایم کیوایم کے چیف الطا ف حسین کے اسٹایل میں کراچی میں پیپلز پارٹی کی جیالوں کا ایک مجمع اکٹھا کیا اس کے بعد ایک پرشور بے معنی  تقریر پیش کی جس میں ہراس فرد، گروپ، ادارے اور سیاسی و غیرسیاسی قوت کو مرنے مارنے کی دھمکیاں دیں جو ان کی صدارت کے خلاف لب کھولنے کی جسارت کرتا ہے یا ان کی کرپشن کے بارے میں بات کرتا ہے۔

دو دن بعد ان کی پارٹی کے ایک لیڈر نے جو آج کل خیر سے سندھ کے وزیرداخلہ کے عہدے پر براجمان ہیں زرداری صاحب کی تقریر کو سیاسی مطلب ومفہوم عطا کرنے کے لیے اپنے تا حال حلیف ایم کیوایم کے لیڈروں اور ورکروں کے بارے میں ایسے انکشافات کیے جن کی گہرائی اور کیرائی کا ادراک پاکستان کے عوام کو بہت پہلے سے ہے لیکن پیپلز پارٹی کی حکومت نے ابھی تک ریکنسیلیشن کے نام پر ان مجرموں اور ان کے جرائم پر توجہ دینے کی ضرورت محسوس کی نہ جسارت کی۔

پیپلزپارٹی کی قیادت نے ہر اس مجرم کو گارڈ آف آنر پیش کیا یا اقتدار کے ایوانوں میں خوش آمدید کہا جو اس کے اپنے لیڈروں کے جرائم کو رگ کے نیچے چھپانے میں مدد دینے کے لیے تیار تھا۔ اس مقصد کے حصول کے لیے اگرایک طرف انہوں نے جنرل مشرف کی اقتدارسے با عزت رخصتی کا اہتمام کیا تو دوسری طرف ایم کیوایم کے لیڈروں کے جرائم کو نظرانداز کرتے ہوے انہیں وفاق اور صوبے میں اقتدارمیں شراکت دار بنایا۔ لیکن جس دن ایم کیوایم نے این آر او میں حصہ دار بننے سے انکار کیا اس دن پیپلز پارٹی نے پہلے انہیں دبئی لے جا کر گاجریں پیش کیں اور جب گاجریں وصول کرنے کے باوجود  ایم کیوایم نے این آراو پر لچک دکھانے سے انکار کیا توپھر پیپلز پارٹی نے سندھ میں اپنے وزیر داخلہ کو اسی طرح کھلا چھوڑ دیا جیسے جنرل مشرف نے 12 مئی 2007 کے دن ایم کیوایم کے سندھ میں اس وقت کے وزیر داخلہ وسیم اخترکو کھلا چھوڑ دیا تھا۔

لیکن شکر ہے کہ سندھ کے موجودہ وزیر داخلہ نے ابھی زبانی کلامی گولہ باری کی ہے اور سابقہ وزیر داخلہ وسیم اختر کی طرح ٹینکروں سے کراچی کی سڑکیں بند کرکے انہیں انسانی خون سے لالہ زار نہیں بنایا۔ اللہ کرے کہ معاملات یہیں سنبھل جایں اور صورت حال مزید خراب نہ ہو کیونکہ مجرمانہ سرگرمیوں میں مصروف سیاسی مجاور جب آگ اور خون کی ہولی کھیلنے پر اتر آتے ہیں تو اس سے صرف سڑکوں پرلاشوں کے پشتے نہیں لگتے بلکہ کئی ماوں کی امیدوں کے چراغ گل ہو جاتے ہیں،  کئی دلہنوں کے سہاگ اجڑ جاتے ہیں اور کئ بچیوں  اور بچوں کا مستقبل ہمیشہ کے لیے تاریک ہو جاتا ہے۔

اس وقت جب کہ پاکستان اپنی بقا کی جنگ لڑ رہا ہے ہماری تمام سیاسی مجاوروں سے درخواست ہے کہ ان کی ہوس کی کہانیاں اگرچہ پہلے سے  پوری دنیا میں پھیل رہی ہیں وہ لندن یا اسلام آباد میں بیٹھ کر ٹی وی پرپاکستان کے عوام کے سامنے بے مغز تقریریں پیش کرنے کی بجاے اور دوسروں کو اپنے گریبانوں میں جھانکنے کا مشورہ دینے کی بجاے خود اپنے گریبانوں میں جھانکیں اور پاکستان کے عوام کے جمہوریت کے بارے میں خوا بوں کو پامال کرنے کے بجاے اپنے طرز فکر اور طرز حکمرانی کا جائزہ لیں۔

پاکستان کے سیاسی مجاوروں کو جمہوریت سے جتنی دلچسپی ہے پاکستان کے عوام کو اس کا بہت اچھی طرح اندازہ  ہے۔ وہ  خوب جانتے ہیں کہ کون اپنے ذاتی اور سیاسی معاملات میں کتنا جمہوریت پسند ہے اور کس کی  پارٹی ميں کتنی جمہوریت ہے۔ اگریہ سیاسی مجاور اپنے جرائم کے بارے میں باہمی ملی بھگت کا رویہ اپناے رکھنے میں مصلحت سمجھتے ہیں تو کم از کم اپنی بہودہ، بے معنی اور لغویات پر مبنی تقریروں سے پاکستان کے عوام کی قابلیت کی توہین سے گریزکریں۔

ان سیاسی مجاورں کو ہمارامشورہ ہے کہ اگر وہ پاکستان میں حکومت کرنا چاہتے ہیں یا حکومت کرنے کے خواب دیکھتے ہیں تو پہلے اپنے کردارکی مکمل  درستگی اور صفائی کے بارے ميں عوام کے شکوک و شبہات دور کریں۔ جب قوم کو مکمل یقین ہوجاے کہ یہ ہوس زر کی بجاے صیح معنوں میں ملک وقوم کی خدمت کرنا چاہتے ہیں تب اپنے آپ کو کسی سیاسی کردار کے لیے قوم کے سامنے پیش کریں۔  اپنے جرائم کے دائرے کی وسعت کی بنیاد پر پارٹیوں کے لیڈر بن جانا اور پھر اپنی ذاتی منفعیت کے لیے ملک وقوم کے مفادات کو داو پر لگا دینا کہاں کی دانشمندی ہے۔

ان سیاسی مجاوروں نے اب تک جتنی لوٹ مار کر لی ہے کیا وہ کافی نہیں کہ وہ مزید اس کا سلسلہ جاری رکھنا چاہتے ہیں اور پیرتسمہ پا بن کر ملک و قوم پر ملسط رہنا چاہتے ہیں؟               

 

  

Pakistan Weekly - All Rights Reserved

Site Developed and Hosted By Copyworld Inc.