Tuesday September 06, 2016

 

 CONTENTS

 Home

 News

 Editorial

 Opinion

 Fauji's Diaries

 Story

 Letters

 Community/Culture

 PW Policy

Ashraf's Articles-1

Ashraf's Articles-2

Ashraf's Urdu Poem

About Us

 
 
 

The Life of Jinnah

 

 

این آر او اور غیر این آر او زدہ

ہائی کلاس مجرمین

کے اشرف

 

ہمیں این آر کے تھیلے سا باہر آنے والی میاوں میاوں کرتی بلیاں دیکھ کر کوئی تعجب نہیں ہوا۔ ہمیں بہت حد تک پہلے سے ان کا اندازہ تھا اور ان کے جرائم کی نوعیت بھی ہمارے علم میں تھی۔  

ہم نے ہمیشہ کہا پاکستان مجرموں کے چنگل میں پھنسا ہے۔ ان مجرموں کے پنجے سے جب تک پاکستان کی رہائی نہیں ہوتی پاکستان بطورریاست فنکشنل نہیں ہو سکتا ۔

این آر او کی تفصیلی فہرست جاری ہونے کے بعد صرف یہ ہواہے کہ قوم کے سامنے وہ بہت سے نام اور چہرے آگئے ہیں جو سالہا سال تک طرح طرح کے جرائم کرتے رہے ہیں اور اب بھی ایسی اعلی پوزیشنوں پر فائز ہیں کہ قانون ان کی طرف میلی آنکھوں سے نہیں دیکھ سکتا۔  

یاد رہےاین آر او کی فہرست ابھی پاکستان کے ہائی کلاس مجرمین کی تمام اقسام کی نشاندھی نہیں کرتی۔

این آر او میں شامل مجرمین کے علاوہ ابھی کئی ایسے ہائی کلاس مجرمین ہیں جن کے ناموں اور چہروں کو پہچاننا بہت ضروری ہے۔ اور جب تک وہ غیراین آر او زدہ  نام اور چہرے سامنے نہیں آتے اس وقت تک پاکستان میں ہونے والے جرائم کی داستان مکمل نہیں ہوتی۔

سب سے پہلے این آر او زدہ مجرمین کے بارے میں چند گزارشات۔ اور اس کے بعد غیر این آر او زدہ مجرمین کے بارے میں چند باتیں۔  

اس وقت سارے پاکستانی میڈیے میں ان آر او زدہ ناموں کی فہرست کی تشہیر کی جارہی ہے۔ جو کہ بہت اچھی بات ہے۔ لوگوں کو پتہ چلنا چاہیے کہ وہ کون لوگ ہیں جوپاکستان میں جرائم کے پھلوں پر پھل پھول رہے ہیں۔ لیکن ساتھ ساتھ تھوڑی سی حقیقت پسندانہ گفتگو اس شہیدہ بی بی اور اس مفرور مجرم اعظم جنرل مشرف کے بارے میں بھی ہونی چاہیے جن کے درمیاں این آر او کے بارے میں مزاکرات ہوے اور پھر دونوں نے ایک دوسرے کوسیاسی فواید پئنچانے کے لیے وہ اقدامات کیے جن کی وجہہ سے ان آٹھ ہزار چھوٹے بڑے مجرمین کو این آر او جیسی چھتری تلے پناہ دینے کی کوششیں کی جارہی ہیں جنہیں بڑی حد تک پاکستانی میڈیے، عوام اور عدالتوں نے جزوی طور پر ناکام بنا دیا ہے۔ جزوی طور پر اس لیے کہ جب تک یہ مجرمین عدالتوں سے اپنے کردہ جرائم کی سزا نہیں پاتے اس وقت تک میڈیے اور عوام کی یہ کامیابی ادھوری رہے گی۔

اس ضمن میں ہماری میڈیے اور عوام سے درخواست ہے کے وہ این آر او زدہ مجرمین کا ہر سطح پر بائکاٹ کریں اور قانوں نافذ کرنے والے اداروں پر پریشر بلڈ کریں کہ وہ ان مجرمین کے خلاف، جنہیں فلحال ملزمین کہنا چاہیے، بلا رو رعایت کاروائی مکمل کریں۔ جن کے جرائم ثابت ہوں انہیں قرار واقع سزا دیں اور جو بے گناہ ثابت ہوں انہیں نیک چلنی کے سرٹفیکیٹ کے ساتھ با عزت بری کریں۔ تاہم تب تک انہیں کورٹ کے حکم کے ذریعے پبلک سروس سے متعلق کوئی بھی عہدہ سنبھالنے سے روک دیا جاے  جب تک وہ قانونی طور پر تطہیر کے عمل سے نہیں گزر جاتے ۔

اس کے علاوہ میڈیے اور عوام کو شرف قبولیت سے ان کی پزیرائی کا سلسلہ روک دینا چاہیے۔

مثال کے طور پر پاکستانی میڈیا بہت عرصہ سے آگاہ ہے کہ ایم کیوایم کے بعض لیڈروں کے خلاف کتنے سنگیں جرائم کے الزامات ہیں۔ خود الطف حسین صاحب کے خلاف بہتر مختلف جرائم کے مقدمات ہیں جن میں سے بتیس مقدامات قتل سے متعلق ہیں۔ لیکن یہ پاکستان اور پاکستان کے عوام کے ساتھ کتنی بڑی زیادتی ہے کہ پاکستان کے بعض مقبول ٹی وی چینل ان کے طویل خطبات من و عن بلا کم و کا ست براہ راست نشر کرتے ہیں۔  

الطاف صاحب کے خلاف بہترمقدمات کی فہرست ابھی این آر او کے نتیجے میں سامنے نہیں آئی بلکہ ان ٹی وی چینلز کے مالکان اور کارندے اس فہرست سے بہت پہلے سے آگاہی رکھتے ہیں۔ اس کے باوجود الطاف حسین صاحب کی تقریریں اور پیغامات کی پاکستانی عوام تک ترسیل کیا بجائے خود ایک جرم نہیں۔  

اور یہ مثال صرف ایم کیوایم کی لیڈرشپ تک محدود نہیں اس کا دائرہ دوسری پارٹیوں کے لیڈران تک پھیلا ہوا ہے۔ پاکستانی میڈیا انہی لیڈروں کی تشہیرکرتا ہے جو کسی نہ کسی حوالے سے ان جرائم کو حصہ رہے ہیں جن کا انشراع این آر او میں شامل ناموں سے کے سامنے آنے کے بعد ہوا ہے۔

چیونکہ میڈیا ان ہائی کلاس مجرموں کی تشہیر کرتا ہے نتیجتأ عوام ان کی طرف راغب ہوتے ہیں اور ان کو پزیرائی ملتی ہے۔ جس کی بنا پر سماج میں مجرمانہ رجحانات مزید راسخ ہوتے ہیں۔

اب جیسے ہم نے اس تحریر کے آغازمیں عرض کیا تھا کچھ باتیں غیر این آر او زدہ مجرمین کے بارے میں۔

این آر او کی فہرست جاری ہونے کے بعد عوام کے سامنے ان ڈھائی تین سوبڑے مجرمین کے نام سامنے آے ہیں جنہیں اس چھتری کے ذریعے پاکستان کے مجرم اعظم جنرل مشرف نے تحفظ فراہم کرنے کی کوشش کی لیکن ان میں ان غیر ایں آر او زدہ مجرمین کے نام شامل نہیں ہیں جن کے اربوں روپوں کے قرضے معاف کیے گئے، جنہیں سرکاری اراضی الاٹ کی گئی اور جنہیں آوٹ آف دے وے ایسے سرکاری کاموں سے اربوں کھربوں روپوں کا فایدہ پنچایا گیا جس کے یا تو وہ اہل نہیں تھے یا انہیں بلا کسی وجہہ ان اہل حضرات پر ترجیع دی گئی جو واقعتأ اس کام کے اہل تھے یا اس کام کو بہتر طور پر سستے داموں سرانجام دے سکتے تھے۔

ان غیر این آر او زدہ مجرمین کے نام بھی گاہے بگاہے میڈیے میں کسی نہ کسی حوالے سے آتے رہتے ہیں اور پبلک کو بھی بڑی حد تک ان کا اندازہ ہے لیکن قومی ریکارڈ کی درستی کے لیے اگر لگے ہاتھوں ان کی باضابطہ سرکاری فہرست بھی عوام کے علم کے لیے جاری کردی جائےتو یہ بھی ایک قومی خدمت ہوگی۔

اور پھر ان غیر این آر او زدہ مجرمین کے علاو وہ غیراین او زدہ جنرل مشرف ٹائپ مجرمین جنہوں نے نہ صرف یہ کہ ملک اور آئین کے ساتھ کھلواڑ کیا بلکہ ملک کے مسقبل کو خطرات میں ڈالا جس کا غمیازہ آج ساری قوم بھگت رہی ہیں اور قتل وغارت اور اغوا کا وہ کاروبار جاری کیا جس کے نتیجے میں نہ صرف اکبر بگھٹی اور بے نظیر جیسے لوگ قتل ہوے بلکہ سینکڑوں ہزاروں پاکستانی گھروں اور دفتروں سے اٹھاے گئے، جو قتل ہوے اور ان کی لاشیں سنسان مقامات پر ملیں، یا انہیں غیر ملکی قوتوں کے ہاتھوں بیچا گیا یا ابھی تک عقوبت خانوں میں سسک سسک کر قبروں میں پڑے مردوں کی سی زندگی گزار رہے ہیں۔

پاکستان میں حکومتی کاروبار، سیاست، صحافت، بزنس، اور سماجی کام جرائم کا ایک ایسا طویل بے انت سلسلہ ہے جس کے این آر او میں شامل حضرات ایک معمولی سی جھلک ہیں۔  

پاکستان کو صحیع معنوں میں ریاست بنانے کے لیے ان این آر او یا غیر این آر او زدہ مجرمین کو کیفرکردار تک پنچانا ہوگا۔ ان کو سزایں دینی ہوں گی یا ان کی تطہیر کے لیے ایسے سوشل پروگرام بنانے ہوں گے جن سے گزرنے کے بعد ایک طرف پاکستانی معاشرہ آئندہ اس قماش کے لوگ سے محفوظ ہو جاے اور دوسری طرف ایسے مجرمانہ کردار رکے حامل لوگ ایسی زندگی جی سکیں جہاں انہیں اس طرح کے جرائم کرنے کے مواقع میسر نہ ہوں۔

لیکن ان این آر او  اور غیر این آر او زدہ ہائی کلاس مجرمین کی نشاندھی بہرحال ضروری ہے۔ قوم کو اپنے ان ہائی کلاس مجرمین کے ناموں اور چہروں سے ضرور شناسائی ہونی چاہیے۔

  

Pakistan Weekly - All Rights Reserved

Site Developed and Hosted By Copyworld Inc.