Tuesday September 06, 2016

 

 CONTENTS

 Home

 News

 Editorial

 Opinion

 Fauji's Diaries

 Story

 Letters

 Community/Culture

 PW Policy

Ashraf's Articles-1

Ashraf's Articles-2

Ashraf's Urdu Poem

About Us

 
 
 

The Life of Jinnah

 

 

چینی کم کم

کے اشرف

اگر کوئی سمجھنا چاہے تو چینی کا بحران پاکستان کے معاشی نظام اور پاکستانی عوام کے معاشی بد حالی کے پس پردہ اسباب سمجھنے کے لیے کافی ہے۔

سب سے پہلے چینی کے بحران کی ظاہری صورت حال۔ چینی کا استعمال صرف پاکستانی کلچر کا حصہ نہیں۔ دنیا بھر کے عوام کی خوراک میں چینی ایک اہم عنصر کی حثیت رکھتی ہے۔ آپ دنیا کے کسی ملک میں بھی جایں آپ دیکھیں گے کہ لوگوں کی زندگیوں میں چینی بالکل ویسے ہی اہمیت رکھتی ہے جسیے پاکستانی عوام کی زندگیوں میں۔ لیکن پاکستان کے عوام کوچینی کے بارے میں جس منفرد صورت حال کا سامنا ہے شاید دنیا کے کسی اور ملک کے عوام کو نہیں۔ آپ دنیا کے کسی ملک میں چلے جایں آپ کو چینی کے لیے لاینیں یا بازو پھیلاے مردوں اور عورتوں کے گروہ دکھائی نہیں دیں گے۔ دنیا کے کسی بھی ملک میں اگر صارفین چینی خریدنا چاہیں تو وہ دوکان یا اسٹور پر جاتے ہیں، مناسب دام ادا کرتے ہیں اور چینی لے کر گھر واپس آ جاتے ہیں۔ جہاں سپلائی کے مزید بہتر نظام ہیں وہاں چینی کے تجارتی صارفین چینی کے سپلائرزکو فون کرتے ہیں اور چینی ان کی جاے مصرف پر پہنچ جاتی ہے۔

آخرپاکستان میں ایسی کیا ابتلا ہے کہ لوگ چینی کے لیے مرے جارہے ہیں لیکن انہیں گھریلو استعمال کے لیے یا چینی ملتی نہیں اور اگر ملتی ہے تو اتنی مہنگی کہ وہ خریدنے کی سکت نہیں رکھتے۔

دراصل کہانی یہ ہے کہ پاکستان میں چینی ہی نہیں ہر چیز کنٹرول سے باہرہے۔ وہ پاکستانی جو وسایل کو کنٹرول کرتے ہیں وہ مصنوعی کمی پیدا کرکے اشیا کی مصنوعی طلب پیدا کرتے ہیں اور یوں ان کی جائز یا مناسب قیمت سے چارگنہ زیادہ وصول کرکے اپنے بینک بیلنس میں اضافہ کرتے ہیں۔ اور جن بینکوں کے بیلنس میں وہ اضافہ کرتے ہیں وہ بھی اکثر پاکستان ميں نہیں بلکہ دنیا کے دوسرے ممالک میں واقع ہیں۔

ارتکاز دولت اور وسایل وہ بیماری ہے جس سے تمام معاشی اور مالی مسایل جنم لیتے ہیں۔ اور یہ بیماری پاکستان کے صاحب اقتدارطبقے میں اس حد تک سرایت کر چکی ہے کہ ان کو دوبارہ نارمل اور صحت مند انسان بنانے کے لیے حکومتی سطح پر سرجیکل اقدامات کرنا ہوں گے۔ لیکن چیونکہ اقتدار پر بھی یہی طبقات قابض ہیں اس لیے اس بات کا امکان کم ہے کہ ارتکازدولت و وسایل کے مسایل حل کرنے کے لیے کبھی کوئی حکومت اقدام کرے گی۔ لہذا یہ کام پاکستان کے عوام کو خود کرنا ہوگا۔ پاکستان کے عوام کو ایسے اقدامات کرنا ہوں گے جن سے پاکستانی معاشرے کے بالائی طبقات کی ارتکاز دولت و وسایل کی بیماری کا علاج ہو سکے۔

مثال کے طور پر پاکستان کے عوام کو یہ سوچنا ہوگا کہ اگر زرداری صاحب اربوں ڈالرز اپنے غیر ملکی اکاونٹوں میں ڈالتے جار رہے ہیں جن کی ذاتی طور پر ان کو ضرورت نہیں، اور دوسری طرف پاکستان اور پاکستان کے عوام پیسے پیسے کےلیے ترس رہے ہیں تو کیا طریقہ کار اختیار کیا جائے کہ زرداری صاحب کی ارتکاز زر کی بیماری کا علاج ہو سکے اور وہ روپیہ جو زرداری صاحب نے دنیا بھر کے بینکوں میں جمع کروا رکھا ہے اسے دوبارہ پاکستانی معیشت میں شامل کیا جاے تاکہ معیشت بحال ہواور پاکستان کا عام آدمی اس سے پیدا ہونے والے مواقع سے مستفید ہوسکے۔

اسی طرح پاکستانی عوام کویہ سوچنا ہوگا کہ نواز شریف صاحب کو زندہ رہنے کے راے ونڈ محل کی کیا ضرورت ہے۔ ہزاروں ایکڑپر مبنی اراضی پر بنے گھر میں رہنے کی بجاے وہ باآسانی ایک آدھ کنال پر بنے گھر میں بھی باعزت زندگی گزارسکتے ہیں۔ آخر ہزاروں ایکڑاراضی پر بنا گھر ان کی کونسی نفسیاتی ضرورت پوری کررہا ہے۔؟

واپس زرداری صاحب کی مثال کی طرف لوٹتے ہوے پاکستانی عوام کو یہ سوچنا ہوگا کہ زرداری صاحب کو بحثیت پاکستانی زندہ رہنے کے لیے، جبکہ پہلے ہی ان کے پاس پاکستان کے علاوہ بھی دنیا بھر کے کئی ممالک میں کئی محل نما گھر ہیں،  اسلام آباد میں300 ایکڑ اراضی کی کیا ضرورت ہے؟

یاد رہے ہم زرداری صاحب اور نواز شریف صاحب کی مثالیں ان کو ایکسپوز کرنے کے لیے نہیں دےرہے مقصد صرف ارتکاز زر و وسایل کی نشاندھی کرناہے۔ اور یہ ارتکاز زر و وسایل کی بیماری صرف زرداری صاحب اور نواز شریف صاحب کو لاحق نہیں پاکستان میں لاکھوں کی تعداد میں ایسے پاکستانی ہیں جو ضرورت سے زیادہ دولت اور وسایل پر بلا وجہہ قبضہ کیے بیٹھے ہیں۔

ارتکاز دولت ووسایل یقینا ایک خطرناک نفسی و معاشرتی بیماری ہے۔ خاص طور پر پاکستان جیسا ملک جہاں کروڑوں لوگ غربت اور افلاس کی زندگی بسر کررہے ہیں وہاں ارتکاز دولت ووسایل کا عمل نفسی و معاشرتی  بیماری سے بڑھ کر جرم کی حدود میں داخل ہو جاتا ہے۔

اس جرم کا سلسلہ جتنا پھیلتا جاتا ہے معاشی انحطاط کا دایرہ بڑا ہوتا جاتا ہے، عام آدمی کی محرومیوں میں اضافہ ہوتا جاتا ہے، اور غربت کی وجہ سے جنم لینے والے مسایل پورے معاشرے کو اپنی لپیٹ میں لے لیتے ہیں۔

زرداری صاحب اور نواز شریف صاحب پاکستان میں محلات اور جایدادیں بنانے کے بعد دبئی، جدے، لندن اور امریکہ میں محلات اور جایدادیں بنا لیتے ہیں اور اپنے بینک بلینس میں دن رات اضافہ کرتے ہیں لیکن پاکستان کے عام عورتیں اور مرد کبھی آٹے کی خیرات لینےکے لیے ایک دوسرے کے قدموں تلے کچلے جاتے ہیں، کبھی ایک کلو چینی کے تھیلے کے لیے بازو پھیلاے ایک جگہہ سے دوسری جگہہ بھاگتے ہیں اور انہیں چینی نہیں ملتی۔

پاکستان کے عوام کو سوچنا ہوگا کہ وہ ارتکاز دولت و وسایل جیسی بیماری اور جرم کا پاکستان سے کیسے خاتمہ کرسکتے ہیں؟ خاص طور پر جب زرداری صاحب اور نواز شریف صاحب بر سر اقتدار بھی ہوں؟

جب تک پاکستان کے عوام ارتکازدولت و وسایل کی بیماری اور جرم کا  پاکستان سے خاتمہ نہیں کرتے نہ انہیں آٹا آرام سے ملے گا نہ چینی اور نہ رہنے کے لیے گھر اور نہ بچوں کی تعلیم کے لیے مناسب سکول۔ انہیں جان لینا چاہیے کہ یہ مسئلہ صرف چینی کا نہیں اس کے پیچھے اور بھی بہت کچھ چھپا ہے۔  

 

  

Pakistan Weekly - All Rights Reserved

Site Developed and Hosted By Copyworld Inc.