Tuesday September 06, 2016

 

 CONTENTS

 Home

 News

 Editorial

 Opinion

 Fauji's Diaries

 Story

 Letters

 Community/Culture

 PW Policy

Ashraf's Articles-1

Ashraf's Articles-2

Ashraf's Urdu Poem

About Us

 
 
 

The Life of Jinnah

 

پاکستان بھر کے غریبو متحد ہو جاؤ

کے اشرف

غریب پاکستانی صرف سرحد، پنجاب، سندھ یا بلوچستان تک محدود نہیں وہ پاکستان کے کونے کونے میں پھیلے ہیں۔ کسی بھی صوبے کے کسی بھی گاؤں یا شہر میں جائیں پاکستان کے غریب عوام آپ کو ہرجگہ ایک ہی طرح زندگی کے لیے پسینے سے تربتر پیشانیوں کے ساتھ ہانپتے کانپتے جدوجہد کرتے دکھائی دیں گے۔

یہ سارے غریب پٹھان، غریب پنجابی، غریب سندھی، غریب بلوچی اور غریب اردو بولنے والے پاکستانی اس لیے غریب نہیں کہ وہ محنت نہیں کرتے یا وہ غریب رہنا چاہتے ہیں۔ وہ اس لیے بھی غریب نہیں کہ وہ اچھی زندگی گزارنے کی خواہش نہيں رکھتے یا یہ کہ ان کے سینوں میں دل نہیں دھڑکتے۔ یا ان کی آنکھیں اچھے مستقبل کے خواب نہیں دیکھتیں۔

غریب پاکستانی اس لیے غریب ہیں کہ ریاست کے وسائل پر ان طاقت ور طبقوں نے قبضہ کر رکھا ہے جو نہيں چاہتے کے پاکستان کے غریبوں کی حالت بد لے۔

اگر غریبوں کی حالت بدل جاے ٔ تو ان طبقات کے کام رک جاتے ہیں جوصرف غریب اپنی غربت کے ہاتھوں مجبور ہونے کی وجہ سے کرتے ہیں۔

ریاست کے وسائل پر قابض طبقات اس لیے بھی غریبوں کو غریب رکھنا چاہتے ہیں تا کہ ان کی لوٹ کھسوٹ کا سلسلہ چلتا رہے۔ اگر غریبوں کو ریاستی وسائل میں سے مناسب حصہ ملنے لگے تو ان وسائل پر قابض طبقات کی لوٹ کھسوٹ کا نظام دم توڑنے لگتا ہے اور وہ اچانک آسمانوں کی بلندی سے گرکر عام آدمیوں کی سطح پر اترنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ جو انہیں قبول نہیں۔

ریاست کے وسائل پر قابض رہنے کے لیے ان طبقات  نےایسے نظام کو جنم دیا ہے جس میں داخلے کے راستے پاکستان بھر کے غریبوں کے لیے انہوں نے بند کر رکھے ہیں تا کہ ان ریاستی وسائل پرقابض طبقات کا ان وسائل پر  قبضہ اور غریبوں کی غربت ہمیشہ  قائم رہے۔

اگر پاکستاں کے غریب چاہتے ہیں کہ ان کی غربت ختم ہو تو انہیں پاکستان کے ریاستی اداروں کو ان طاقت ورطبقات کے قبضہ سےآزاد کرانا ہوگا جن پر قابض رہ کر لوٹ کھسوٹ کرنے والے طبقات لوٹ کھسوٹ کا عمل جاری رکھتے ہیں۔

پاکستان بھر کے غریبوں کو جان لینا چاہیۓ  کہ زندگی چلانے کےلیے چند چیزیں ان کا  بنیادی حق ہیں جن سے انہیں کوئی صدر، کوئی وزیر، کوئی امیر، کوئی جرنیل، کوئی مل اونر یا کوئی زمین دار محروم نہیں کرسکتا۔ اور اگر کوئی صدر، کوئی وزیر، کوئی امیر، کوئی جرنیل، کوئی مل اونر یا کوئی زمین دار ان حقوق کے حصول کے راستے میں رکاوٹ بنے  تو وہ ان کا دشمن ہے۔

ان حقوق میں سے بنیادی حق خاندان کی ضرورت کے مطابق گھر کا ہونا ہے۔ ریاست کی ذمہ داری ہے کے وہ اپنے شہریوں کو ایسے وسائل فراہم کرۓ جن سے ان کوسر چھپانے کے لیے مناسب رہائش مل سکے۔

مناسب رہائش کے بعد ہر شہری کا حق ہے کہ ریاست اس کے لیے زندہ رہنے کے لیے مناسب نوکری کے مواقع فراہم کرے اور اگر کسی کو نوکری نہ ملے تو اس وقت تک اس کی کفالت ہو جب تک اسے نوکری نہیں مل جاتی۔

ہرشہری کا حق ہے کہ اس کے بچوں کو تعلیم وتربیت کے مناسب مواقع فراہم ہوں۔ ان کی ترقی میں معاشی وسائل کی کمی مانع نہ آۓ۔ اور زندگی میں آگے بڑھنے کے یکساں مواقع فراہم ہوں

اس کے علاوہ شہریوں کا یہ حق ہے کہ زندگی کی بنیادی ضروریات جیسے بجلی، پانی، خوراک اور صحت کے وسائل پر نہ صرف مناسب دسترس حاصل ہوبلکہ ان کی بروقت اور بلا رکاوٹ  سپلائی موجود رہے۔

انہی اجتماعی حقوق میں سے ہر شہری کا یہ حق ہے کہ اسے ملک  بھرمیں آزادانہ نقل و حرکت کی نہ صرف اجازت ہو بلکہ مناسب وسائل میسر ہوں تا کہ وہ عزت وآبرو کے ساتھ پاکستان کے ایک آزاد شہری کے طور پرملک کے ایک حصے سے دوسرے حصے میں سفر کر سکے۔

اگرکوئی حکومت عام پاکستانیوں کے لیے ان حقوق کی فراہمی کا اہتمام نہ کرسکے یا ایسی پالیسیاں اپناے ٔ جن سے ان حقوق تک رسائی میں رکاوٹیں پیدا ہوتی ہوں اس حکومت کو اقتدار میں رہنے کا کوئی حق نہیں اور پاکستان کے غریبوں کو یہ حق ہے کہ وہ ایسی حکومت کا تختہ الٹ دیں  ۔ ۔ اور اس کی جگہ ایسی حکومت قائم کریں جو ان حقوق کی فراہمی اور نگہبانی میں ان کا ساتھ دے نہ کہ ان کے خلاف پالیسیاں بناے ٔ اور اپناۓ۔

بدقسمتی سے پاکستان کی سب موجودہ سیاسی پارٹیاں عوام دشمن پارٹیاں ہیں۔ ان میں سے کسی پارٹی میں یہ صلاحیت یا اہلیت نہيں کہ وہ سرحد ، پنجاب، سندھ ، بلوچستاں  اور پاکستان کے دوسرے حصوں میں رہنے والے غریبوں کے حقوق کی فراہمی کا اہتمام کرسکیں۔

یہ پارٹیاں اپنی عمر کے حساب سے گزشتہ کئی دہایوں سے پاکستان کے عوام کی غربت میں اضافہ کرنے اور اسے قائم رکھنے کی پالیسیوں پر عمل پیرا ہیں۔

سرحد، پنجاب، سندھ ، بلوچستان اور پاکستان کے دوسرےحصوں  ميں بسنے والے سب غریبوں کا فرض ہے کہ وہ متحد ہو کر ایک نئی آل پاکستان عوامی پارٹی کی بنیاد رکھیں  جس کے معاملات پر ان کا کنڑول ہو اور جوان کے مندرجہ بالا حقوق کو یقینی بنا  سکے۔

پاکستان میں اتنے وسائل ہیں جن کی بنیاد پر ہر پاکستانی نہ صرف با عزت زندگی گزار سکتا ہے، اپنے بچوں کی مناسب تعلیم و تربیت کر سکتا ہے،  بلکہ اپنی خداداد صلاحیتوں کے بھرپور استعمال سے دنیا بھر میں اپنا اور پاکستان کا نام روشن کرسکتا ہے۔

اس مقصد کے لیے  پاکستان بھر کے غریبوں کو پیپلز پارٹی، مسلم لیگوں، ایم کیو ایم، آئی جی آئی اور دیگر چھوٹی بڑی مذھبی اور قوم پرست جماعتوں کے چنگل سے نکلنا ہو گا۔ زرداریوں، مزاریوں ، لغاریوں، شریفوں، الہیوں، رحمانوں اور الطاف حسینوں سے نجات پانا ہوگی۔

یہ پارٹیاں اور لیڈر ہی ان کی غربت اور ان کے مسائل کے ذمہ دار ہیں۔  ان سے یہ توقع رکھنا کہ یہ پاکستان ميں ایسا نظام قائم کریں گے جو ان کے حقوق کی پاسبانی کرسکے خیال خام کے سوا کچھ نہیں۔

یہ خام خیالی کب تک ؟ یہ خود فریبی کب تک؟ پاکستان بھر کے غریبو متحد ہو جاؤ۔ سرحد، پنجاب، سندھ اور بلوجستان کی سطح سے اٹھ کر اپنی غربت کے رشتے سے ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے ہو جاؤ۔ یہی تمہاری نجات کا راستہ ہے۔   یاد رکھو،  تمہاری غربت تمہارا  وہ  واحد رشتہ اورتمہاری  وہ  واحد طاقت ہے جس  سے تم  مل کر جو سیاسی نظام  قائم کرو گے صرف  وہی تمہارے مفادات کا تحفظ  کرے گا۔ ورنہ یہ چور لٹیرے حکمران  بین الاقوامی سامراجی قوتوں کے ایما پر تمہاری لوٹ کھسوٹ کا نظام جاری رکھیں گے اور تم کبھی ان کے چنگل سے نجات نہيں پا سکو گے۔

  

Pakistan Weekly - All Rights Reserved

Site Developed and Hosted By Copyworld Inc.