Tuesday September 06, 2016

 

 CONTENTS

 Home

 News

 Editorial

 Opinion

 Fauji's Diaries

 Story

 Letters

 Community/Culture

 PW Policy

Ashraf's Articles-1

Ashraf's Articles-2

Ashraf's Urdu Poem

About Us

 
 
 

The Life of Jinnah

 

یہ سامراجی گماشتے

کے اشرف

پاکستانی عوام مسایل کے سمندر میں ڈوبے ٹک ٹک دیدم دم نہ کشیدم کی مثال بنے دن رات پاکستانی حکمرانوں کی سیاسی کلابازیاں دیکھتے ہیں ریڈیو ٹی وی پر ان کی بکواس سنتے ہیں اور سوچتے ہیں کہ ان سیاسی و غیر سیاسی تسمہ پا پیروں سے کیسے نجات حاصل کریں۔

استغفار کرتے ہیں، پاکستان کی سلامتی کی دعا یں مانگتے ہين اور ان درندہ صفت حکمرانوں کی چیرہ دستیوں پر دل میں کڑھتے ہیں۔ نہ آسمانوں سے رب نیچے آتا ہے کہ ان کو ان ظالموں سے نجات دے اور نہ فطرت حرکت میں آتی ہےکہ ان ناسوروں کا صفحہ ہستی سے صفایا کرے۔

دراصل کہانی یہ ہے کہ پاکستان کے سارے حکمران جو آج سے پہلے حکومت کرچکے ہیں، جو آج حکومت کررہے ہیں، اور جن کو مستقبل بعید تک حکومت میں آنے کی امید ہے سب سامراجی گماشتے ہیں۔ کچھ شعوری طور پر اور کچھ لا شعوری طور پر۔ ان کی پیدائش اور افزائش میں سامراجی جینز اس طرح شامل ہیں کہ پاکستانی عوام جب تک عوامی انقلاب کے ذریعے ان کا صفایا نہیں کرتے اس وقت تک ان کی نجات نہيں ہوسکتی۔

ان سامراجی گماشتوں کی کوئی ایک خاص قسم، کوئی ایک خاص نسل، کوئی ایک خاص رنگ اور کوئی ایک خاص شکل نہیں ہے، یہ پاکستان کی فوج، پاکستان کی سیاست، پاکستان کی صحافت، پاکستان کے مذھب اور پاکستان کے کاروباری شعبے میں اس طرح گھسے ہوے ہیں کہ عوام کو چن چن کر انہیں ڈھونڈ نا ہو گا ان سے نجات پانی ہوگی تب جا کر پاکستان میں وہ ماحول پیدا ہو گا جس میں پاکستان ایک ریاست کی حثیت سے اپنے سفر کا آغاز کرسکے گا۔

یہ سامراجی گماشتے جب مباحثوں میں ایک دوسرے پر غراتے ہیں اور باربار عوام کا یا عوام کے مفاد کا زکر کرتے ہیں تو دراصل ان کے غرانے کے پیچھے ان کی وہ درندگی کارفرما ہوتی ہے جس کا بنیادی مقصد قومی مردے میں اپنا حصہ وصول کرنا ہوتا ہے۔ ورنہ یہ سب ایک ہی تھیلی کے چٹے بٹے ہیں اور وہ تھیلی ہے سامراج کے مفادات کے تحفظ کی۔

سوال یہ ہے کے اس لوٹ کھسوٹ کی ساری صورت حال میں عوام کیا کریں؟ کونسے اقدامات اٹھایں جن کی نتیجے میں ان کی سامراج اور ان سامراجی گماشتوں سے نجات ہو سکے؟

اس ضمن میں سب سے پہلے پاکستانی عوام کو پاکستان کی موجودہ  قیادت کومکمل طور پر رد کرنا ہوگا۔ انہیں پیپلز پارٹی، ایم کیوایم، مسلم لیگ اور دیگر مذھبی اور غیرمذھبی اور علاقائی پارٹیوں کو مسترد کر کے ایک نئی آل پاکستان عوامی پارٹی کی بنیاد رکھنا ہوگی جو اپنے پروگرام کے حوالے سے اوراپنے اغراض و مقاصد کے حوالے سے پاکستان کے عوام کی نمائندگی  کرتی ہو۔ جس کی لیڈرشپ سیاسی دوکانداروں سے ہٹ کر عوام میں سے ہو، عوام کا اس پر اعتماد ہو، اور عوام کا اس پر کنٹرول ہو۔

اس بات کی وضاحت کے لیے عوام، وہ جس پارٹی سے بھی وابستہ ہوں، اپنی اپنی پارٹی کے حوالے سے خود سے سوال کریں کیا وہ اپنی لیڈرشپ کو ہٹا سکتے ہیں؟ کیا پیپلز پارٹی سے وابستہ ورکر زرداری سے نجات حاصل کرسکتے ہیں؟ کیا مسلم لیگ کے ورکرز نواز شریف سے یا شہباز شریف سے، یا مسلم لیگ ق کی صورت میں، چوہدری شجاعت اور پرویزالہی سے نجات حاصل کرسکتے ہیں؟ کیا ایم کیوایم کے ورکر الطاف حسین سے نجات پا سکتے ہیں؟ کیا آئی جی آئی کے ورکر مولوی فضل الرحمان سے نجات پا سکتےہیں؟

اگر ان سب پارٹیوں کے ورکرز کو یہ جواب ملے کہ وہ چاہنے کے باوجود ان سے نجات نہیں پا سکتے تو انہیں ان پارٹیوں سے علحدہ ہو جانا چاہے۔ پاکستان کے عوام کو یہ اصول ایک راہنما اصول کے طور پر استعمال کرنا چاہیے۔ انہیں کسی ایسی سیاسی  پارٹی کا حصہ نہیں بننا چاہیے جس کی لیڈرشپ پر انہیں کنٹرول نہ ہو۔

اس ضمن میں انہیں اپنے آپ سے دوسرا سوال یہ پوچھنا چاہیے کہ کیا  وہ اپنی لیڈرشپ کومقررہ مدت کے بعد تبدیل کرسکتے ہیں۔ اگر وہ چار یا پانچ سال بعد پارٹی کے لیڈر کو تبدیل نہ کرسکتے ہوں تو انہیں جان لینا چاہیے کے یہ پارٹی بھی غیر جمہوری اور گماشتہ پارٹی ہے جو کبھی ان کے مفادات کا تحفظ کرسکتی ہے نہ کرے گی۔

پاکستان کے عوام کی حالت اس وقت تک نہیں بدلے گی، اس وقت تک ان کے مسایل ختم نہیں ہوں گے، جب تک وہ پاکستان کی سیاست سے  جعلی جمہوری اورسامراج کے گماشتہ عناصر کا صفایا نہیں کردیتے۔

پاکستان کے عوام کو جان لینا چاہیےکہ پیپلزپارٹی اور پیپلز پارٹی کی سب لیڈرشپ، مسلم لیگیں اور مسلم لیگوں کی سب لیڈرشپ، اے این پی اور اے این پی کی سب لیڈرشپ، ایم کیوایم اور ایم کیوایم کی سب لیڈرشپ، تمام مذھبی جماعتیں اور ان کی سب لیڈرشپ، تمام علاقائی پارٹیاں اور ان کی سب لیڈرشپ سامراج کے گماشتے ہیں جن کا مقصد سواے سامراج کے ملکی اور غیر ملکی مفادات کے تحفظ کے اور کچھ نہیں۔ یہ پاکستان اور پاکستان کے عوام کے کھلے دشمن ہے۔ پاکستان کے عوام کو ان سے کسی خیر کی توقع نہیں رکھنی چاہیے۔  

یہ وہ عفریت ہیں جو نہ استغفار سے جایں گے، نہ دعاوں اور بد دعاوں سے جایں گے، نہ میڈیے کی تنقید ان کا کچھ بگاڑ سکتی ہے۔ یہ وہ حیلہ  گرہیں جنہیں بدلتے موسموں کے ساتھ اپنے رنگ بدلنے کا سلیقہ آتا ہے لیکن ان کی فطرت کبھی تبدیل نہیں ہوتی۔ عوامی لوٹ کھسوٹ کرنا ان کی عادت اور عوام کے خون پر پلنا ان کی ضرورت ہے۔

ان سے نجات پانے کے لیے عوام کو متحد ہونا ہوگا، ایک لائحہ عمل اختیار کرنا ہو گا، مشترکہ طور پر ان کے خلاف جدو جہد کرنا ہوگی۔ ایک ایسا سیاسی پلیٹ فارم بنانا ہوگا جس کے سب معاملات پر کسی زرداری، کسی مزاری، کسی شریف، کسی الہی، کسی الطاف، کسی رحمان یا کسی باوردی حکمران کا اختیار نہ ہو بلکہ اس کے سب معاملات پاکستان کے عام آدمی کے ہاتھ میں  ہوں۔

جتنی جلدی پاکستان کے عوام کسی ایسے پلیٹ فارم پر اکٹھے ہوکر کسی  ایسی سیاسی پارٹی کی تشکیل کرلیں گے ان کے مسایل میں کمی آنے کے امکانات روشن ہو جایں گے۔ لیکن اگر وہ ایسا نہ کرسکے اور انہی سیاسی چمگادڑوں سے بہتری کی امید لگاے بیٹھے رہے تو پھر ان کے لیے یا  پاکستان کے لیے کسی بہتری کی امید رکھنا خود فریبی کےسوا کچھ نہیں ۔ اس صورت میں عوام کو مستقلا اس جہنم میں جلتے رہنے کےلیے تیار رہنا چاہیے جو سامراجی گماشتوں نے ان کے لیے کئی دہایوں سے بڑے اہتمام کے ساتھ تیار کررکھا ہے۔       

  

Pakistan Weekly - All Rights Reserved

Site Developed and Hosted By Copyworld Inc.