Tuesday September 06, 2016

 

 CONTENTS

 Home

 News

 Editorial

 Opinion

 Fauji's Diaries

 Story

 Letters

 Community/Culture

 PW Policy

Ashraf's Articles-1

Ashraf's Articles-2

Ashraf's Urdu Poem

About Us

 
 
 

The Life of Jinnah

 

فیصلہ بہرحال صدرصآحب

کو کرنا ہے

 

جس دن پیپلز پارٹی نے آصف زرداری صاحب کو صدر بنانے کا فیصلہ کیا اسی دن اس نے پاکستان پر حکومت کرنے کا اپنا اخلاقی جوازکھو دیا۔ بلکہ ایک سیاسی پارٹی کی حثیت سے اپنے گلے میں ایسی تحتی ڈال لی جس پر واضع الفاظ میں لکھا تھا "یہ چوروں ڈاکوں کی پارٹی ہے" ۔

 

ہم نہیں جانتے آصف زرداری صاحب کے بارے میں گزشتہ دو دہایوں میں پھیلنے والی کرپشن کی کہانیوں میں کتنی صداقت ہے لیکن ہم ایک بات ضرور جانتے ہیں کہ صدر پاکستان جیسا اہم عہدہ سنبھالنے سے پہلے زرداری صاحب کو اپنا نام ان پاکستانی اور غیر ملکی عدالتوں سے  ضرور کلیر کروانا چاہیے تھا جن میں ان کے کیس چل رہے تھے۔

 

پیپلزپارٹی کی سنٹرل کمیٹی کے وہ ارکان جنہوں نے زرداری صاحب سے دست بستہ عرض کی تھی کہ پاکستان کی صدارت کا عہدہ ضرور سنبھالیں وہ یقینا مرحومہ بے نظیر بھٹو، ان کے خاوند محترم آصف زرداری، ان کے بچوں اور ان کی پارٹی کے دوست نہیں تھے۔ اگر وہ مرحومہ یا ان کی سیاسی وراثت' ان کے خاندان' اور ان کی پارٹی کے وفادار ہوتے تو وہ کبھی زرداری صاحب کو صدر پاکستان بننے کا مشورہ نہ دیتے۔

 

در اصل یہ ایک ایسا سنہری موقع تھا جس سے فائدہ اٹھا کر زرداری صاحب نہ صرف یہ کہ اپنے دامن پر لگے ماضی کے  بہت سے داغ صاف کرسکتے تھے بلکہ آئندہ لگنے وال داغوں سے خود کوبچا سکتے تھے۔ حکومت سے باہر رہ کر اپنے لیے ایک باعزت جگہہ بنا سکتے تھے۔ کامیابی کے ساتھ پیپلز پارٹی کو ایک صحیع پارٹی کے طور پر چلا سکتے تھے بلکہ اسے ایک صحت مند اور شاندار پارٹی میں تبدیل کر سکتے تھے۔  لیکن انہوں نے صدر بن کر وہ سارے مواقع کھو دیے اورنہ صرف  اپنے آپ کو تضحیک کا نشانہ بنوایا بلکہ پیپلز پارٹی کے بطور پارٹی امیج کو بھی مجروح کیا۔

 

اب بہت سا پانی پلوں کے نیچے سے گزر چکا ہے۔ زرداری صآحب نے اپنے آپشنز کو انتہائی محدود کرلیا ہے۔ لیکن اب بھی مناسب اقدامات کرکے نہ صرف وہ خود کو اس دلدل سے نکال سکتے ہیں بلکہ دوبارہ بطور صدر پاکستان اپنی ساکھ بحال کرسکتے ہیں۔ جس طرح ہم نے اپنے دس نکاتی مشورہ نامے میں عرض کیا تھا زرداری صاحب کو این آر او کے چکر سے نکل آنا چاہیے۔ جن لوگوں نے کرائم کیے ہیں انہیں عدالتوں کا سامنا کرنے دیں۔  اپنے ان مشیروں سے نجات پايں جو انہیں سیاسی کھیل کھیلنے کے مشورے دیتے ہیں۔ سترھویں ترمیم کے فلفور خاتمے کے لیے اقدامات کریں۔ پارٹی کی صدارت سے مستعفی ہوں  ۔ بلاول بھٹوکی بجاے پارٹی کے اندر وسیع البنیادی مشورے کے ساتھ قیادت کسی غیر بھٹو کے حوالے کریں۔ اور پارٹی کو ایک صحیع سیاسی پارٹی کے طور پر اپنی شکل وصورت درست کرنے کے مواقع فراہم کریں۔ وزیراعظم کو مستقلا عوام کے مسایل حل کرنے کے لیے فوری اقدامات کے لیے آمادہ کریں اور اس ضمن میں وزیر اعظم کو جس قسم کی مدد چاہیے وہ انہیں فراہم کریں۔ عوامی فلاح و بہبود کے کاموں میں خود کو مشغول کریں۔ غیر ملکی دورے بند کریں۔ ایوان صدر میں سیاسی میٹنگیں بند کریں۔ بطور صدر خود کو پیپلز پارٹی سے اوپر اٹھ کر پاکستان کے صدر بنیں۔

 

ان اقدامات سے واقعات کی سمت تبدیل ہونے کے امکانات ہیں لیکن جس سطح پر چیزیں پہنچ گئی ہیں ان کا زرداری صاحب کے حوالے سے صحیع سمت میں جانا حاصہ مشکل امر ہے۔ لیکن سیاست امکانات کا نام ہے۔  

 

زرداری صاحب چاہیں تو پیپلز پارٹی کی حکومت اب بھی بچ سکتی ہے جو ان کے لیے بہتر آپشن ہے۔      

     

  

Pakistan Weekly - All Rights Reserved

Site Developed and Hosted By Copyworld Inc.