Tuesday September 06, 2016

 

 CONTENTS

 Home

 News

 Editorial

 Opinion

 Fauji's Diaries

 Story

 Letters

 Community/Culture

 PW Policy

Ashraf's Articles-1

Ashraf's Articles-2

Ashraf's Urdu Poem

About Us

 
 
 

The Life of Jinnah

 

 

کسی معاشر ے ميں تبدیلی کب آتی ہے؟

کے اشرف

یوں تو بہت سے عناصر کسی معاشرے ميں تبدیلی کا سبب بنتے ہیں۔ لیکن  جن ممالک یا معاشروں میں  تبدیلیاں رونما ہوئیں  اْن میں تین عناصر مشترک پائے گئے۔

1: انصاف کی عدم فراہمی

2: انسانیت کی توہین

3: بیرونی ممالک کی مداخلت

اس کے علاوہ بھوک، ننگ، بیروز گاری، اشیا ئے ضروریہ کی عدم فراہمی، سیاسی تبدیلی کے راستے ميں کھڑی کی گئی رکاوٹیں، معاشرے میں پھیلی بے چینی ۔ حکام تک لوگوں کی نارسائی  وغیرہ۔ لیکن اگر آپ ان سب عناصر کا تفصیلی تجزیہ کریں تو ان کا تعلق کسی نہ کسی طرح اوپر بیان کئے گئے تین عناصر سے جا ملتا ہے۔ خاص طور پر انصاف کی عدم فراہمی میں کئی طرح کا انصاف شامل ہے۔ یہاں صرف اس انصاف کی بات نہیں ہو رہی جو عدالتیں فراہم کرتی ہیں۔ بلکہ اس سے مراد، معاشی انصاف، سماجی انصاف، سیاسی انصاف اور انصاف کی و ہ تمام شکلیں شامل ہیں جن سے  کسی بھی معاشرے ميں ایک عام آدمی کا سابقہ پڑتا ہے۔

اس طرح انسانیت کی توہین سے مراد صرف ایک انسان کے ہاتھوں دوسرے انسان کی توہین نہیں بلکہ ہر طرح کی توہین مراد ہے۔

جب کسی ملک کے حکمران عام آدمیوں کی زندہ رہنے کی سہولیات  تک رسائی مسدود کردیتے ہیں اور انسانوں کو ان سہولیات تک رسائی کے لئے انسانیت کے اخلاقی معیاروں کو خیر باد کہنا پڑتا ہے تو اس سے انسانوں کی اجتماعی  توہین ہوتی ہے۔

مثال کے طور پر اگر معاشی بدحالی کی وجہ سے کسی معاشرے ميں خواتین اور حضرات زندہ رہنے کے لئے  ایسے ذرائع اختیا ر کرنے پر مجبور ہو جائيں جو اخلاقی اور قانونی طور پر  عام انسانی معیاروں پر پورے نہ اترتے ہوں تو یہ چیز بھی انسانی توہین کے زمرے میں آتی ہے۔

تیسری علامت اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ جو معاشرہ تبدیلی کی طرف جار ہا ہے اس کے سیاسی ، معاشی اور سماجی ڈھانچے میں اس حد تک انحطاط واقع  ہو چکا ہے کہ بیرونی قوتوں  کے لئے اس معاشرے میں مداخلت کرنا اس حد تک آسان ہو جاتا ہے کہ وہ اس معاشرے یا اس ملک کے بنیادی فیصلوں پر اثر انداز ہونا  شروع ہو جاتے ہیں۔

ہم جب آج کے پاکستان پر نظریں دوڑاتے ہیں  تو یہ تینوں عوامل ہمیں اپنی انتہائی سطح تک پہنچے دکھائی دیتے ہیں۔

آج پاکستان میں کسی کو انصاف نہیں ملتا۔ انصاف کی شکل اس حد تک مسخ کر دی گئی ہے کہ عام انسانوں کے لئے یہ تمیز کرنا مشکل ہو گیا ہے کہ کسی شخص کے ساتھ انصاف ہوا ہے یا نا انصافی۔ با اثر افراد ہر طرح کے جرائم کرکے بھی انصاف کے آہنی پنجے کی دسترس سے دور رہتے ہیں ۔ ناانصافی کا یہ عالم ہے کہ بڑے بڑے مجرم جرم کرکے علی الاعلان بڑے بڑے عہدوں پر فائز ہو جاتے ہیں اور کوئی اْن سے تعرض نہیں کرتا۔ بلکہ ان کے حواریوں کا ایک بہت بڑا گروہ بینڈ باجا پکڑ کر ان  کے دفاع میں نظمیں  اور غزلیں گانا شروع ہو جاتے ہیں۔

معاشی اور سماجی انصاف کی صور ت حال اس سے بھی زیادہ دگر گوں ہے۔ معاشی انصاف  کی صورت حال یوں ہے  کہ  لوگ دو وقت کے روٹی کے لئے ترس  رہے ہیں۔

پاکستان ميں سماجی  انصاف   کی صورت حال  کا ذکر کرتے ہوئے کسی   بھی حساس  انسان  کی آنکھیں نم ہو جاتی ہیں۔  قدم قدم  پر معاشی اور سماجی  نا انصافیوں سے  انسانیت  کی  اس  طرح  تذلیل  ہو رہی ہے کہ الاماں  و  الا حفیظ۔  کس کس ناانصافی کا انسان ذکر کرے اور کس کس ناانصافی کا رونا روئے۔ جی چاہتا ہے ان ناانصافیوں پر محرم سے زیادہ بڑا جلوس نکالے اور اس طرح ماتم کرے کہ پاکستان کے حکمران طبقوں کو چھٹی کا دودھ یاد آ جائے۔

یہ تو پہلی دو علامتوں کا ذکر تھا۔ اب آئیں تیسری علامت یعنی غیر ملکی مداخلت کی طرف۔ کونسا کام ہے جو پاکستانی حکمران اپنے طور پر کرتے ہیں؟

غیر ملکی سرکاری عمّال کی ہر وقت لائن لگی رہتی ہے۔ غیر ملکی حکومتی عمّال کا ایک وفد جا نہیں پاتا کہ دوسرا پہنچ جاتا ہے۔

کوئی وفد امریکہ سے آر ہا ہے۔ کوئی برطانیہ سے۔ کوئی چین سے ۔ کوئی سعودی عرب سے۔ اور اگر چند دن تک کسی ملک سے کوئی طائفہ نہ آئے تو پاکستان کے حکمرانوں کو کھجلی ہونا شروع ہو جاتی ہے۔ صدر ایک طرف نکل جاتا ہے اور وزیر اعظم دوسری طرف۔ وزیروں کے وفود  ایک طرف جاتے ہیں تو پارلیمانی وفود دوسری طرف روانہ ہو جاتے ہیں۔

ان علامتوں سے اندازہ ہوتا ہے کہ پاکستانی معاشرہ بھی تیزی سے تبدیلی کی طرف بڑھ رہا ہے۔ یہ تبدیلی مثبت بھی ہو سکتی ہے  اور منفی بھی۔ چیزیں بہتری کی طرف  جاسکتی ہیں اور مزید تنزلی کی طرف بھی۔ اگر پاکستانی عوام نے اس تبدیلی کے عمل میں اپنا کردار ادا کیا تو یہ تبدیلی پاکستان کو بہتری کی طرف لے جا سکتی ہے۔  اْن کا اور اْن کے ملک کا مستقبل محفوظ ہو سکتا ہے۔ لیکن اگر پاکستان کے عوام تبدیلی کے اس عمل کا حصہ نہ بنے تو اْن کا ملک تباہی اور بربادی کی طرف بھی جاسکتا ہے جس سے اْن کا اور اْن کے ملک کا مستقبل خطرات  سے دوچار ہو سکتا ہے۔

کیا پاکستان کے عوام تبدیلی کے اس عمل کا حصہ بن کر اپنے ملک میں مثبت تبدیلی لانے کے لئے اپنا کردار ادا  کرنے پر آمادہ ہو جائيں گے؟  اس کا فیصلہ پاکستانی عوام کو کرنا ہے ۔ ورنہ   وقت  کوا پنا فیصلہ تو بہر حال سنانا ہے۔

 

   

     

  

Pakistan Weekly - All Rights Reserved

Site Developed and Hosted By Copyworld Inc.