Tuesday September 06, 2016

 

 CONTENTS

 Home

 News

 Editorial

 Opinion

 Fauji's Diaries

 Story

 Letters

 Community/Culture

 PW Policy

Ashraf's Articles-1

Ashraf's Articles-2

Ashraf's Urdu Poem

About Us

 
 
 

The Life of Jinnah

 

 

تباہی کی طرف بڑھتا پاکستان اور نمائشی  جمہوریت

 

موجودہ معاشی اور سیاسی بندوبست کے بین الا اقوامی کار پردازان نے پاکستان کو انتہائی چابکدستی کے ساتھ بتدریج تباہی کے راستے پر ڈال دیا ہے۔ اگر ان

 بین الااقوامی کار پردازان کا منصوبہ کامیاب رہا تو بہت جلد پاکستان تباہی کی اس منزل تک پہنچ جاے گا جہاں اس کی حیثیت صومالیہ اور ہیٹی جیسے ممالک سے زیادہ نہیں ہوگی۔

جو دو اہم ہتھیار بیں الا اقوامی معاشی اور سیاسی بند وبست کے کارپردازان اس مقصد کے لیے استعمال کرتے ہیں پاکستان اس وقت نہ صرف  ان کا نشانہ ہے بلکہ مکمل طورپر ان کی گرفت میں ہے۔  

اگرکسی کو غلط فہمی ہے کہ پاکستان کی موجودہ اشرافیہ پاکستان کو اس صورت حال سے نکال لے جاے گی تو وہ یقیننا احمقوں کی جنت میں رہ رہا ہے یا خلل دماغ کا شکار ہے۔

پہلے ان ہتھیاروں کی نشاندہی اور پھر باقی باتیں۔

موجودہ بین الا اقوامی معاشی اور سیاسی بند وبست کے کارپردازان کسی بھی ملک یا ریاست کو حرف غلط بنانے کے لیے دو طرح کے ہتھیار استعمال کرتے ہیں۔

روایتی طور پر پہلے ان کا سیاسی ہتھیار فوجی ڈکٹیڑشپ ہوتی تھی۔ فوجی ڈکٹیڑ شپ میں چند برے تجربات اور جمہوریت کے لیے بڑھتے ہوے عوامی دباو کے تحت اس ہتھیار کو اب نمائشی جمہوریت میں تبدیل کردیا گیا ہے۔

دوسرا ہتھیاربین الااقوامی مالی پالیسیوں کے ذریعے ہدف زدہ ملک میں مڈل کلاس کا اس طرح خاتمہ کہ ملک میں 87 یا 90 فیصد لوگ خط غربت سے نیچے زندگی گزاریں اور 10 سے 13 فیصد لوگ ایسی اشرافیہ بن جائے جن کا رہن سہن، سوچنے کا انداز، ثقافتی میعار اور تہذ یبی قدریں ان 87 یا 90 فیصد لوگوں سے بالکل مختلف ہوں جن کی زندگیوں کے انہوں نے فیصلے کرنے ہیں۔

بین الا اقوامی معاشی اور سیاسی بند وبست کی مالک قوتوں نے پہلا ہدف تو پاکستان میں بہت پہلے مکمل کر لیاتھا۔ ایسی اشرافیہ کی بنیاد انہوں نے پاکستان کی تخلیق کے ساتھ ہی رکھ دی تھی۔ جس کی آبیاری وہ مسلسل فوج ڈکٹیڑشپوں سے کرتے رہے لیکن ساتھ ساتھ نمائشی جمہوریتوں کے تجربات کا سلسلہ بھی جاری رہا۔

اس دوران معاشی میدان میں بھی ملکی وسائل چند ہاتھوں میں مرتکز کرنے کا سلسلہ چلتا رہا۔

اگرچہ کچھ عرصہ تک نظام کی ضرورتوں کے تحت  ملک میں مڈل کلاس کی افزایش ہونے دی گئی لیکن اس افزایش کے نتیجے میں خطے اور بین الاقوامی  سطح پر پیدا ہونے والے مسائل کی وجہ سے ضروری سمجھا گیا کہ  پاکستان میں ایسے اقدامات کیۓ جائیں جن کے ذریعے مڈل کلاس کا افزائش روکی جاۓ بلکہ جو لوگ

 قدرے غربت کی سطح سے اٹھ کرمڈل کلاس میں شامل ہوگئےہیں انہیں دوبارہ  خط غربت سے نیچے دھکیلا جاۓ۔

اس مقصد کے لیے پاکستان پراطاعت گزار اشرافیہ کے ذریعے  ایسی بین الا اقوامی معاشی  پالیسیاں مسلط کی گئیں جن سے پاکستان کا وہ انفرا اسٹرکچر تباہ ہوجاۓ جس کے فعال رہنے کی وجہ سے مڈل کلاس کی نشونما ہوتی ہے اور ملک کی صحت بہترہونا شروع ہوجاتی ہے اور ملکی معاملات بہترانداز میں چلنے لگتے ہیں۔

جنرل مشرف کا مارشل لا اس سمت میں پہلا ایک واضح قدم تھا۔ ظاہری طور پر یہ سمجھا گیا اور حکومتی سطح پر بھی اس کا پراپیگنڈہ  گیا کہ ملک میں مڈل کلاس کی نشوونما کا عمل شروع ہو چکا ہے۔ عوام کو موٹر سائکل اور موبل فون ملنا شروع ہوگیے ٔاور بہت جلد اوپر والی سطح پر ہونے والی معاشی تبدیلیوں کےاثرات عوام میں تقسیم ہونا شروع ہوجائیں گے اور بہت جلد ملک میں دودھ اور شہد کی نہریں بہنے لگیں گی۔

لیکن واقفان حال اس وقت بھی جانتے تھے اور اب بھی جانتے ہیں کہ جنرل مشرف کے ذریعے بین الاقوامی معاشی اور سیاسی بند وبست کے کار پردازوں نے ایسی معاشی پالیسیوں کی بنیاد رکھی جس سے ملک کا بنیادی معاشی ڈھانچہ تباہ و برباد ہوجاۓ تا کہ مڈل کلاس کے طور پر زندگی کرنے والے پاکستانی دوبارہ خط غربت سے نیچے دھکیلے جا سکیں۔

چناچہ جیسے ہی مشرف کے تاش کے پتوں کا گھروندہ بکھرا پاکستانی سماج کی وہ بدصورت معاشی حقیقتیں ابھر کر عوام کے سامنے  آ گئیں جن کی آبیاری جنرل مشرف کر رہے تھے۔

بدقسمتی سے پاکستان میں وہ صورت حال ابھی تبدیل نہیں ہوئی۔ بین الااقوامی معاشی اور سیاسی بند وبست کی مالک قوتوں نے جو پالیسیاں پاکستان پر جنرل مشرف کے ذریعے مسلط کی تھیں وہ اب بھی موجودہ نمائشی  جمہوری نظام کے ذریعے پاکستان پر مسلط ہیں اور مسلسل اپنے گہرے اثرات کے ذریعے مڈل کلاس کو غربت کی غار میں دھکیل کر ملک کے معاشی، سماجی اور سیاسی ڈھانچے کو بتدریج مکمل تباہی کی طرف دھکیل رہی ہیں۔   

پاکستان کے موجودہ نمائشی جمہوری نظام کودیکھتے ہوے یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ اوپر ہم نے جس لے پالک اطاعت گزار اشرافیہ کا ذکر کیا تھا ابھی تک نہ صرف وہ پاکستان پر مسلط  ہے بلکہ وہ بین الااقوامی معاشی اور سیاسی بند وبست کی مالک قوتوں کی پالیسیوں پر من و عن عمل پیرا ہے اور ان کاانتہائی تندہی کے ساتھ تحفظ بھی کر رہی ہے۔  

اگر یہ صورت حال جاری رہی تو ہو گا یہ کہ بین الااقوامی معاشی اور سیاسی بند وبست کی مالک قوتوں کاتخلیق کردہ یہ نمائشی  جمہوری نظام اور ان کے ذریعے پاکستان پر مسلط کی گئی معاشی پالیسیوں سے رہی سہی کسر بھی نکل جاۓ گی اور پاکستان کا انفرا اسٹرکچر مکمل طور پر مطلوبہ تباہی سے بہت مختصر عرصے میں ہم کنار ہو جاے  ٔ گا۔ جس کے نتیجے میں رفتہ رفتہ  پاکستان میں  روز گار کے مواقع بل کل ختم ہو جائیں گے۔ ملک میں غربت اور بھوک ننگ  اور بڑھے گی۔

  لا قانونیت پھیلے گی۔ جرائم میں اضافہ ہوگا۔ ملک کے سماجی ڈھانچے میں مزید توڑ پھوڑ ہو گی۔ اور پاکستان معاشی اور سیاسی طور پر اس انجام تک پہنچ جاۓ  گا جس کی خواہش بین الا اقوامی معاشی اور سیاسی بند وبست کی مالک قوتیں رکھتی ہیں۔

اس سلسلے میں اس بات کی  وضاحت ضروری ہے کہ بیں الا اقوامی معاشی اور سیاسی بند وبست کے قوتوں کے نزدیک یہ  لازمی نہیں کہ پاکستان کو توڑا جاۓ۔ پاکستان اگر صومالیہ یا ہیٹی جیسی صورت حال میں زندہ رہے تو ان قوتوں کے مقاصد پورے ہوتے رہیں گے۔ اور پاکستان میں مڈل کلاس کو تباہ کرنے والی  پالیسیوں سے شاید یہ قوتیں چاہتی بھی یہی ہیں کہ پاکستان صومالیہ یا ہیٹی بن جاۓ۔

اب سوال یہ کہ پاکستان کو اس بتدریجی تباہی کے راستے پر جانے سے کون روک سکتا ہے؟

موجودہ نمائشی  جمہوری نظام جس کا تانا بانا انہی قوتوں کی پیدا کردہ اشرافیہ کے ساتھ ان کے گٹھ جوڑ سے بنا گیا ہے پاکستان کو اس بتدریج تباہی کی طرف جانے سے بچا لے گا تو یہ ممکن نہیں۔ یہ اشرافیہ اور موجودہ نمائشی جمہوری نظام انہی قوتوں کی پیداوار ہے اور ان کے مفادات کے تحفظ کےلیے اسے تخلیق کیا گیا ہے۔ یہ اپنی تخلیق کے مقاصد سے سرمو انحراف نہیں کرسکتے۔ اگر کریں گے تو پاکستانی ریاست کے اندر وہ قوتیں ان کا بوریا بستر گول کردیں گی جن کا کام ان کی نگرانی کرنا ہے۔

وہ لوگ جو پاکستان کو ایک کامیاب ریاست اور ترقی پسند ملک کے طور پر دیکھنے کے خواہش مند ہیں انہیں سنجیدگی سے ایسے اقدامات کرنا ہوں گے جن کے ذریعے  موجودہ نمائشی جمہوریت کو حقیقی نمائندہ جمہوریت میں تبدیل کیا جا سکے اوربین الا قوامی معاشی اور سیاسی بند وبست کی مالک قوتوں کی پالیسیوں کے تسلط سے پاکستان کی نجات ممکن ہو سکے۔

بین الااقوامی معاشی اور سیاسی بندوبست کی مالک قوتوں نے پاکستان میں جو نمائشی جمہوریت کھڑی کی ہے اس کی ترجیحات میں سر فہرست ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف کی پاکستان پر قرضوں کے ذریعے گرفت مضبوط کرنا، انفرا اسٹرکچر کی بنیادی لوازمات جیسے بجلی، گیس اور پٹرول کے سسٹم کی مزید توڑ پھوڑ اور قیمتوں کی بڑھوتی سے ان کو ایسی سطح تک لے جانا کہ پاکستان کے معاشی انفرا اسٹرکچرکی رسائی ان لازمی لوازمات تک نا ممکن ہوجاے تا کہ اس کی تباہی کو یقینی بنایا جا سکے۔

بین الا اقوامی معاشی اور سیاسی بند وبست کی مالک قوتين اگر ایک طرف نمائشی جمہوری حکومت کو استعمال کرتے ہوے آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کےذریعے پاکستان کے معاشی انفرا اسٹرکچر کی تباہی کو یعقینی بنا رہی ہیں تو دوسری طرف ڈبلیوٹی او کے ذریعے زندگی کی باقی بنیادی ضروریات کی اشیا کی قیمتوں کو عام آدمی کی رسائی سے باہر لے جارہی ہیں۔

نمائشی جمہوری حکومت کا اشیاے ضروری کی قیمتوں  کو بین الا اقوامی  سطح تک لے جانے کا معاشی فلسفہ بین الا اقوامی معاشی اور سیاسی بند وبست کی مالک قوتوں اور ان کے نمائندہ اداروں جیسے آئی ایم ایف، ورلڈ بینک اور ڈبلیوٹی ایف او کی سوچ کی عکاسی کرتا ہے۔

اس ضمن میں سوچنے والی بات یہ ہے کہ آپ اشیاے ضروریہ کی قیمتوں کوبین الا اقوامی سطح پر کیسے لے جاسکتے ہیں؟ کیا آپ نے پاکستانیوں کا معیار زندگی اور اجرتوں کو بین الااقوامی معیار تک پہنچا دیا ہے جو آپ قیمتوں کوورلڈ بینک، آئی ایم ایف، ڈبلیو ٹی او کے دباو کے تحت عالمی معیار تک لے جانا چاہتے ہیں؟

حقیقت یہ ہے کہ نمائشی جمہوریت کے قیام، ورلڈ بینک، آئی ایم ایف اور ڈبلیو ٹی او کی کڑی شرائظ کے ذریعے بین الا اقوامی معاشی اور سیاسی بند و بست کے مالک پاکستان کو ہیٹی بنانا چاہتے ہیں۔ جہاں 87 سے 90 فیصد لوگ بھوک ننگ اور افلاس کی زندگی بسر کریں گے اور 10 سے 13 فیصد اشرافیہ نمائشی جمہوریت یا لبرل ڈکٹیڑشپ کے دریعے ان بین الااقوامی قوتوں کے مفادات کا تحفظ جاری رکھے گی ۔

اس طرح ایک ایسی قوم جس میں بے پناہ ترقی کی صلاحیتیں موجود ہیں ہیٹی کی طرح زندگی اور موت کے درمیاں لٹکی سسک کر ایک بھکاری قوم کی طرح زندہ رہے گی جس سے ایک طرف ان بین الااقوامی قوتوں کا چھوٹی موٹی امداد کے ذریعے اعلی انسانی تصور قائم رہے گا اور دوسرے طرف پاکستان بین الاقوامی  

یسطح پر کبھی کوئی اہم کردار ادا نہیں کرسکے گا۔

  

Pakistan Weekly - All Rights Reserved

Site Developed and Hosted By Copyworld Inc.