Tuesday September 06, 2016

 

 CONTENTS

 Home

 News

 Editorial

 Opinion

 Fauji's Diaries

 Story

 Letters

 Community/Culture

 PW Policy

Ashraf's Articles-1

Ashraf's Articles-2

Ashraf's Urdu Poem

About Us

 
 
 

The Life of Jinnah

 

مسئلہ افغانستان اور خطے میں متحرک قوتیں

کے اشرف

 

پاکستان میں دہشت گردی افغانستان کے مسئلے کے ساتھ جڑی ہے۔ جب تک افغانستان کا اونٹ کسی کروٹ نہیں بیٹھتا اس وقت تک پاکستان میں امن کا قیام ممکن نہیں۔

 

اس لیے یہ انتہائی ضروری ہے کہ افغانستان کے مسئلے کوصحیح پس منظر میں سمجھا جاے اور پھر اس کے حل کے لیے مناسب اقدامات کیے جایں۔

 

اس ضمن میں سب سے پہلے افغانستان میں متحرک عناصر کی واضع نشاندہی ہونی چاہیے۔ اس کے بعد ان عناصر کے ساتھ معاملات طے کرنے کے لیے ایک موثر حکمت عملی ترتیب دی جانے چاہیے اور پھر اس حکمت عملی پر عمل کرنے کے لیے ایک مضبوط اور مربوط لائحہ عمل طے ہونا چاہیے۔

 

ایسی کوئی بھی حکمت عملی طے کرتے ہوے اور اس حکمت عملی پر مضبوط اور مربوط لائحہ عمل مرتب کرنے کے لیے ازحد ضروری ہے کہ چند بنیادی حقیقتوں کا قبل از وقت تعین کرلیا جاے۔

 

مثلا افغانستان کے مسئلے میں شامل ہر قوت کو یہ جاننا چاہیے کہ:

 

1: افغانستان افغانیوں کا ہے اور کسی اور قوت  کو افغانستان میں اپنی موجودگی قائم رکھنے  اور کسی بھی قسم کی  کاروائی کرنے  کا کوئی حق نہیں۔

 

2: افغانستان کی اندرونی صورت حال کے سب سے برے اثرات پاکستان پر منعقد ہورہے ہیں اور اس کی قیمت بھی سب سے زیادہ پاکستان کو ادا کرنا پڑرہی ہے۔

 

3: لہذا اس مسئلے کے حل میں سب سے فعال اور موثر کردار پاکستان کا ہونا چاہیے۔ اور مسئلے میں شامل قوتیں پاکستان کے اس کردار کو تسلیم کرتے ہوے پاکستان  کے پیش کردہ حل کااحترام کریں اور خطے میں امن قائم کرنے کے لیے پاکستان کی حکمت عملی کی حمایت کریں۔

 

ان تین بنیادی معروضات کے بعد آئیے دیکھیں افغانستان میں متحرک قوتیں کون ہیں؟ وہ افغانستان میں کیوں متحرک ہیں؟ کن مفادات کے حصول کے لیے وہ نہ صرف افغانستان کی تباہی وبربادی پر آمادہ ہیں بلکہ پاکستان کو بھی بڑھتی ہوئی دہشت گردی سے تہہ وبالا کر رہے ہیں اورپورے خطے کے عمل کو داو پر لگا رہےہیں۔

 

اس ضمن میں جو دو نمایاں قوتیں افغانستان میں سر گرم عمل ہیں وہ ہیں  امریکہ اور بھارت۔

 

امریکہ اور بھارت دونوں کا افغانستان سے کوئی تعلق نہیں۔ امریکہ اور بھارت دونوں غیر ملکی قوتیں ہیں جن کی افغانستان میں مسلسل موجودگی اور افغانیوں کے خلاف جنگ نہ صرف بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے بلکہ ان کی موجودگی اور جنگ کی وجھھ سے اگر ایک طرف پاکستان بطور ریاست مسلسل تباہی کی طرف دھکیلا جار رہا ہے تو دوسری طرف افغانستان پر مرتب ہونے والے سیاسی ، سماجی، معاشرتی، اور ماحولیاتی اثرات کی قیمت میں دن بدن اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔

 

یہ حقیقت ہے کہ القائدہ نے افغانستان کی سرزمین کو امریکہ میں حملے کرنے کے لیے استعمال کیا۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ امریکہ القائدہ کو اپنے لیے بہت بڑا خطرہ محسوس کرتا ہے۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ القائدہ کو ختم کرناضروری ہے لیکن القائدہ کو ختم کرنے کے لیے جس طرح افغانستان، پاکستان اور پورے خطے کی سلامتی اور امن کو داو پر لگایا جارہا وہ یقینا نہ افغانستان، پاکستان اور خطے کے مفاد میں ہے بلکہ امریکہ اور بھارت کے علاوہ پوری دنیا کے امن کے لیے بھی خطرناک ہے۔

 

امریکہ اور بھارت کے علاوہ افغانستان میں جو قوتیں سرگرم عمل ہیں وہ بنیادی طور پر امریکہ کی ایما پرافغانستان میں سرگرم ہیں۔ اگر امریکہ اور بھارت افغانستان پر افغانیوں کے  حق کو تسلیم کرتے ہوے وہاں سے رخصت ہو جاتے ہیں اور پاکستان کو اس صورت حال سے نبٹنے دیتے ہیں تو چیزیں انتہائی تیزی کے ساتھ بہتری کی طرف جا سکتی ہیں۔

 

اگر امریکہ اور بھارت ان حقائق کو سمجھ سکیں اور رضاکارانہ طور پر افغانستان سے نکلنے پر تیار ہوجایں تو بجا ورنہ پاکستان کو اس صورت حال سے نبٹنے کے لیے ایک آزادانہ حکمت عملی اور لائحہ عمل طے کرنا ہوگا۔

 

امریکی اور بھارتی مطالبات کے تحت بنائی گئی حکمت عملی اور لائحہ عمل پاکستان کو مسلسل تباہی کی طرف دھکیل رہا ہے۔

 

جیسا کہ ہم نے اوپر عرض کیا تھا۔ افغانستان جنگ کے سب سے تباہ کن اثرات پاکستان پر مرتب ہورہے ہیں اور اس جنگ کی سب سے زیادہ قیمت بھی  پاکستان کو ادا کرنا پڑرہی ہے۔ اور یہ قیمت صرف آج نہیں پاکستان  گزشتہ تیس سالوں سے ادا کررہا ہے۔ اب یہ قیمت اس سطح تک پہنچ گئی  ہے کہ اب پاکستان کے سامنے صرف دو راستے ہیں۔  مکمل تباہی و بربادی یا ایک ایسی حکمت عملی اور لائحہ عملی جس سے افغانستان سے غیر ملکی قوتوں کا انخلا ممکن ہوسکے۔   افغانیوں کو افغانستان میں اپنے معاملات حل کرنے کا موقع مل سکے ۔ اور پاکستان اپنے علاقے میں دہشت گردوں کو کنٹرول کرنے پر اپنی توجہ مرکوز کرسکے۔

 

پاکستان کے حکمرانوں کو یہ اندازہ ہو جانا چاہیے کہ اگر پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف اپنی حکمت عملی کو افغانستان میں متحرک غیر ملکی قوتوں سے الگ نہ کیا اور مسلسل ایسی حکمت عملی پر عمل جاری رکھا جس  کا مقصد افغانستان میں غیر ملکی قوتوں کے قبضے کو مستحکم کرنا ہوا تو پاکستان کے اندر دہشت گردی بڑھے گی۔ قتل وغارت میں اضافہ ہوگا۔ غیر یقینی بڑھے گی۔ مزید تباہی و بربادی پھیلے گی۔ اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ دہشت گرد پاکستان کو اس حد تک غیر مستحکم کردیں کہ غیر ملکی افواج کو عدم استحکام کا بہانہ استعمال کرکے   پاکستان میں فوجی  مداخلت کرنی پڑے۔

 

اگر عدم استحکام کی وجہہ سے غیرملکی افواج پاکستان ميں داخل ہویں تو پھر پاکستان سے ان کی رخصتی جن شرائط کے تحت ہوگی ان کا پاکستانی حکمرانوں کو اندازہ ہونا چاہیے۔ غیر ملکی افواج کی پاکستان آمد سے پاکستان میں امن نہیں ہو گا۔ تباہی و بربادی مسقلا پاکستانیوں کی زندگیوں کا حصہ بن جاے گی۔ عراق کی طرح خود کش حملے ختم نہیں ہوں گے بلکہ مزید بڑھ جایں گے۔

 

اگرچہ پاکستان تباہی کے کافی قریب پہنچ چکا ہے اب بھی پاکستان کے پاس محدود مہلت باقی ہے کے پاکستان اندرونی دہشت گردی سے نبٹنے کے لیے ایک آزادانہ حکمت عملی اپناے اور افغانستان کے اندر غیرملکی  متحرک قوتوں کو سمجھاے کہ وہ اس خطے کو مکمل تباہی وبربادی تک لے جانےکی بجاے اپنے گھروں کو واپس جایں اور اس خطے کو اپنے معاملات خود طے کرنے کے لیے تنہا چھوڑ دیں۔

 

مختصرا اگر پاکستان موجودہ دلدل سے نکلنا چاہتا ہے اور خود کو ایک بڑی تباہی سے بچانا چاہتا ہے تو پاکستان کے صرف دو یقینی اور اعلانیہ اہداف ہونے چاہیں۔  

1: غیر ملکی قوتوں کا افغانستان اور پاکستان سے انخلا اور

2: دہشت گردی کا ہر صورت میں خاتمہ۔

پاکستان جیسے جیسے غیر ملکی قوتوں کے افغانستان اور پاکستان سے انخلا کی حکمت عملئ  پر آگے بڑھے گا پاکستان میں دہشت گردی دم توڑنے لگےگی۔ خطے میں امن لوٹنے لگے گا۔ دہشت گرد قوتیں الگ تھلگ ہونے لگیں گی اور ان سے نبٹنا افواج پاکستان کے لیے نسبتا آسان ہو جاے گا۔

  

  

Pakistan Weekly - All Rights Reserved

Site Developed and Hosted By Copyworld Inc.