Tuesday September 06, 2016

 

 CONTENTS

 Home

 News

 Editorial

 Opinion

 Fauji's Diaries

 Story

 Letters

 Community/Culture

 PW Policy

Ashraf's Articles-1

Ashraf's Articles-2

Ashraf's Urdu Poem

About Us

 
 
 

The Life of Jinnah

 

صاف ستھری اور اہل حکومت

 عوام کا آئینی حق ہے

کے اشرف

 

آئین پاکستان پاکستنیوں کوپاکستانی شہری ہونے کی حثیت سے  جو حقوق عطا کرتا ہے ان میں سے کچھ واضع زبان میں آئین میں مرقوم ہیں اور کچھ آئین کی مغتلف شکوں میں اس طرح مربوط ہیں کہ ایک طرح سے شکوں میں مربوط حقوق واضع زبان میں لکھے گے حقوق سے زیادہ اہمیت اختیار کر لیتے ہیں۔

 

مثال کے طور پر آزادی تحریرو تقریر، سیاسی مقاصد کے لیے کسی ایک جگہہ اکھٹا ہونے کا حق اور ملک کے  اندرسفر کرنے اور کاروبار کرنے کا حق۔ یہ سب حقوق واضع زبان میں آئین میں درج ہیں لیکن ان کے علاوہ کئی ایسے حقوق بھی ہیں جو حقوق والے حصے میں درج نہیں لیکن ان کا مقصد پاکستان کے شہریوں کے حقوق اور ریاست کے مفادات کے تحفظ سے ہے۔

 

مثال کے طور پر آئین کی وہ شکیں جو منتخب نمائندوں کی اہلیت اور کردار کی وضاحت کرتی ہیں بنیادی طور پر ان کا شمار بھی پاکستان کے شہریوں کے حقوق سے ہے۔

 

اس حوالے سے یہ پاکستان کے شہریوں کا حق ہے کہ جو لوگ پارلیمنٹ مین بیٹھے ہیں وہ اس قابل ہوں کہ قانون سازی کا فریظہ پوری قابلیت اور اہلیت کے ساتھ ادا کرسکیں۔

 

اسی طرح پاکستان کے شہریوں کا یہ حق ہے کے پارلیمنٹ میں ان کی نمائندگی کرنے والے لوگ دیانت دار اور بے داغ کردار کے مالک ہوں۔

 

پاکستانی کے اجتماعی حقوق کے حوالے سے یہی پابندیاں ان لوگوں پر عاید ہوتی ہیں جو وزارت یا صدارت کے قلمدان سنبھالتے ہیں۔ اگر کوئی ایسا شخص پارلیمنٹ میں پہینچ جاتا ہے، وزیر یا وزیراعظم بن جاتا ہے، یا صدرپاکستان بن جاتا ہے جس میں ذمہ داریاں سنبھالنے کی اہلیت نہ ہویا بد دیانت ہو یا داغ دار کردار کو مالک ہوتو اس کی پبلک ٹرسٹ کے ان دفتروں میں تعیناتی  براہ راست پاکستانی شہریوں کے اجتماعی انسانی

حقوق کی خلاف ورزی ہے۔

 

با الفاظ دیگر یہ پاکستانی شہریوں کا اجتمائی انسانی حق ہے کہ ان کے حکمران نہ صرف دیانت دار ہوں، بے داغ کردار کے مالک ہوں اور امور حکمرانی چلانے کے اہل ہوں۔

 

بد قسمتی سے نظا م  کی خامیوں اور کمزوریوں کی وجہہ سے ہمیشہ  کسی نہ کسی طرح پاکستان پر ایسےلوگ مسلط ہوجاتے ہیں جو نہ صرف امور حکمرانی چلانے میں پرلے درجے کے نا اہل ہوتے ہیں بلکہ ان کی دیانت داری اور کردار کے بارے میں بھی لوگوں کے ذہنوں میں طرح طرح کے شکوک و شبہات پاے جاتے ہیں اور اکثر اوقات وہ شکوک وشبہات صحیح ہوتے ہیں۔

 

پاکستان کے سیاسی نظام میں جو تضادات ہیں وہ اپنی جگہہ لیکن پاکستان کی سیاست سے متعلق لوگوں کے ذہن میں کئی ایسے غلط تصورات پاے جاتے ہیں جن کی تصحیح کے لیے ایک منظم کوشش کی ضرورت ہے۔

 

مثال کے طور پرایک بہت بڑا مغالطہ جس کا بار بار اظہار پاکستانی سیاست کے بعض بڑے بڑے جغادری بھی اکثر کرتے رہتے ہیں یہ ہے کہ سیاست دانوں کے بہتریں محتسب ان کے ووٹررز ہیں اور صرف انہیں حق پہنچتا ہے کہ وہ ان کی کارکردگی کی بنیاد پر انہیں ووٹ دے کر یا ووٹ نہ دے کران کا احتساب کریں۔

 

اس استدلال کے ذریعے وہ اپنے ان جرائم کو بھی چھپانے کی کوشش کرتے ہیں جو انہوں نے اپنی زندگی کے کسی لمحے میں اقتدارمیں آنے سے پہلے کیے ہوتے ہیں۔ اس طرح وہ اپنی منتخب پوزیشن کو اپنے ماضی، حال اور مستقبل کے غیرقانونی کاموں کے لیے شیلڈ کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔

 

اس مغالطے کی مضر اثرات کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ بہت سے جرائم پیشہ افراد بڑے بڑے عہدوں پر فائز ہو جاتے ہیں۔ ان عہدوں پر ان کی تقرری سے ہمیشہ یہ خدشہ رہتا ہے کے اگر ماضی میں وہ سنگین جرائم کا ارتکاب کرتے رہے ہیں تومستقبل میں بھی وہ اپنی سرکاری حثیت کا فایدہ اٹھا کر مزید ایسے جرائم کریں گے جن کے اثرات  ریاست اور اجتماعی معاشرے کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتے ہيں۔

 

حیرت ناک بات یہ ہے کے اس مغالطے میں صرف عام سیاسی سطح کے لوگوں کے علاوہ پاکستان کے بعض بہترین قانونی ماہرین بھی شامل ہیں ۔ اس ضمن میں ہمارے لیے سب سے حیرت ناک بیانات محترم اعتزاز احسن کے ہیں جوانہوں نے  اپنی پیپلزپارٹی کی سنٹرل کمیٹی کی رکنیت بحال ہونے کے بعد دیے ہیں۔

 

ایک تو انہوں نے صدر صاحب کے بارے میں فرمایا ہے کے انہیں آئینی استحقاق حاصل ہےکہ جب تک وہ صدر پاکستان ہیں  نہ انہیں کورٹ میں طلب کیا جا سکتا ہے  اور نہ کسی کیسں میں ان کا ٹرایل ہو سکتا ہے۔

 

ہمیں اعتزاز صاحب اور ان دیگر صاحبان سے جو اس سوچ کے حامل ہیں سخت اختلاف ہے۔

 

ہم سمجھتے ہیں کے کوئی بھی شخص جس پر سنگین جرائم کے الزامات ہوں اسے کوئی آئینی استحقاق حاصل نہیں۔ ایسے کسی بھی شخص کی کسی بھی پبلک آفس میں کسی بھی پوزیشن پرتقرری نہ صرف غیرقانونی  وغیر آئینی بھی ہے بلکہ یہ پاکستانیوں کے اجتماعی انسانی حقوق سے بھی متصادم ہے۔

 

لہذا یہ سپریم کورٹ آف پاکستان کی آئینی ذمہ داری ہے کہ وہ پاکستانیوں کے اجتماعی انسانی حقوق کی حفاظت کے لیے ایسے سب اشخاص کو پبلک ٹرسٹ کے دفتروں سے ہٹنے یا ہٹا نے کے احکامات جاری کرے جو آئین پاکستان میں مقرر کئے گئے معیاروں پر پورے نہیں اترتے۔ ان کی ان پبلک ٹرسٹ کے دفتروں میں موجودگی نہ صرف آئین و قانون کی خلاف ورزی ہے بلکہ پاکستانیوں کے اجتماعی انسانی حقوق کی بھی سنگیں خلاف ورزی ہے۔ کیونکہ دیانت دار، بے داغ کردار کے مالک اور اہل حکمرانوں پر مبنی حکومت ان کا آئینی و قانونی حق ہے۔ اور  اگرمسئلہ  شہریوں کے اجتماعی انسانی حقوق کا ہو تو کسی حکمران کو کوئی آئین  کوئی استحقاق عطا نہیں کرتا۔  شہریوں کے اجتماعی انسانی حقوق حکمرانوں کے ہر استحقاق کو کالعدم کر دیتے ہیں۔

  

  

Pakistan Weekly - All Rights Reserved

Site Developed and Hosted By Copyworld Inc.