Tuesday September 06, 2016

 

 CONTENTS

 Home

 News

 Editorial

 Opinion

 Fauji's Diaries

 Story

 Letters

 Community/Culture

 PW Policy

Ashraf's Articles-1

Ashraf's Articles-2

Ashraf's Urdu Poem

About Us

 
 
 

The Life of Jinnah

 

صدر پاکستان بننے کے چند آزمودہ فارمولے

کے اشرف

وارننگ: صرر پاکستان بننے کے لیے کافی پلاننگ کرنا پڑتی ہے۔ اس لیے کوئی معمر شخص ان فارمولوں پر عمل کی کوشش نہ کرے۔ یہ فارمولے صرف ان ینگ لوگوں کے لیے ہیں جو پچیس تیس سال بعد صرر پاکستان بننا چاہتے ہوں۔ اگر کوئی معمر شخص صرر پاکستان بننے کے خواب دیکھ رہا ہوتواسے مضمون کے آخر میں دیے گئے چند فارمولوں کے بارے میں سوچنا چاہیے لیکن یہ آزمودہ فارمولے نہیں ہیں۔ ان کی کامیابی میں قسمت اور حالات کی یاوری کا زیادہ دخل ہے۔

صدرپاکستان بننے کا کارآمد ترین فارمولہ جس میں کامیابی کے امکانات کافی روشن ہوتے ہیں۔

اگرکوئی پاکستانی نوجوان جو ایف اے کا طالب علم ہو صدر پاکستان بننے کے خواب دیکھ رہا ہے تو ہمارا مشورہ ہے کہ وہ فوج میں لفٹین بھرتی ہو جاے۔ ایک تو اس کو کیریرشروع کرنے کے لیے بی اے، ایم اے، یا پی ایچ ڈی نہیں کرنا پڑے گی۔ پھردربدر کے دھکے نہیں کھانا پڑیں گے۔ کسی کی سفارش درکار نہیں ہوگی۔ کسی کمپیٹیشن کے امتحان میں نہیں بیٹھنا پڑے گا۔ بغیر محنت امریکی انگریزی لکھنی۔ پڑھنی اور بولنی آ جاے گی۔  پاکستان اور دنیا بھر میں گھومنے پھرنے کے مواقع ملیں گے۔ کبھی اللہ کے گھر کی نگہبانی کے لیے سعودی عرب پوسٹنگ ہو گی۔ کبھی شاہ اردن کے محلات کے ارد گرد چند سال گزارنے کا موقع ملے گا۔ کبھی گھٹیا قسم کے برطانوی یا امریکی گوروں سے ٹریننگ کی برطانیہ یا امریکہ میں خوشگوار عقوبت برداشت کرنا پڑے گی۔ لیکن ان سب چیزوں سے متفکر ہونے کی ضرورت نہیں۔ اگرآپ نے صدر پاکستان بننے کے لیے یہ راستہ چنا ہے تو یہ سب ہدف تک پہنچنے کے لیے ضروری ٹریننگ کا حصہ ہے۔ لفٹین سے صدر پاکستان بننے میں جس اہم چیز کا خیال رکھنا ہوگا وہ اپنے افسران کی بیگمات کو خوش رکھنا ہو گا ورنہ اپنے ہدف تک پہنچنے سے پہلے آپ کہیں بھی لڑھک سکتے ہیں۔  زیادہ واضع الفاظ میں آپ کپتانی یا کرنیلی پر بھی فارغ ہو سکتے ہیں۔ صدر پاکستان بننے کےلیےضروری ہے کہ آپ افسران کی بیگمات کو خوش رکھتے رکھاتے جرنیلی تک پہنچیں۔ جرنل بننے کے بعد آپ کو کچھ کمپیٹیشن کا سامنا کرنا ہو گا کیونکہ آپ کی طرح کئی اور صدارت کے خواہشمند لفٹین جرنل بن چکے  ہوں گے۔ اس مقام پر آپ کو اپنے فوجی حلقہ اثر سے باہر کچھ اندرونی اور بیرونی قوتوں کے ساتھ ایسے تعلقات استوار کرنا ہوں گے جوآپ کو آرمی چیف بنتے دیکھ کر خوشی محسوس کریں ۔ ویسے بھی ان تعلقات کی ضرورت آپ کو صدر پاکستان بن کر بھی پیش آے گی لہذا بہتر ہوگا جیسے ہی آپ جرنیلی کی منزل کے قریب پہنچیں اپنی سعودی عرب، برطانیہ، امریکہ اور صومالیہ میں پوسٹنگز کے درمیاں بناے گئے بین الاقوامی تعلقات کی تجدید کا سلسلہ شروع کردیں۔

اس طرح جب آپ اپنے حریف جرنیلوں کی سنیارٹی وغیرہ کاٹتے ہو آرمی چیف بن جایں تو پاکستان کی سول سوسائٹی میں پہلے سے قائم نیٹ ورک کے زریعے جو بھی موجودہ صدر ہو اسےچلتا کریں اور خود صدر پاکستان بن جایں۔ اس مقصد کے لیے آپ کو اپنی آرمی چیف کی پوزیشن بھی نہیں چھوڑنا ہوگی۔

اگلے آٹھ دس سال آرام سے حکومفت کریں۔ کوئی وردی اتارنے کا مشورہ دے تو اسے شک کی نظروں سے دیکھیں ۔ اور کسی خاطر خواہ خطرے کو خاطر میں نہ لایں۔

صدر پاکستان بننے کا یہ فارمولا ان نوجوان لوگوں کے لیے ہے جو لمبے چکروں میں پڑے بغیر سیدھے سبھاو صدر پاکستان بننا چاہتے ہوں۔ اس کے بعد وہ مہم جو نوجوان جو اگلے پچیس تیس سالوں میں صدر پاکستان بننے کے خواب دیکھ رہے ہوں ان کے لیے آزمودہ فارمولہ یہ ہے کے وہ کسی ایسے سیاست دان کی بیٹی کے ساتھ تعلقات قائم کرنے کی کوشش کریں جو کبھی وزیراعظم رہ چکا ہو یا جس کے وزیر اعظم بننے کے امکانات ہوں۔ اگر رہ چکا ہوتو زیادہ بہتر ہے وگرنہ جس کے مسقبل میں وزیر اعظم بننے کا چانس ہو اس کی بیٹی کوپٹانے کی کوششیں شروع کردیں۔ اگر وہ سیاست دان وزیر اٰعظم نہ بن سکا تو اس غلط انتخاب کی ذمہ داری خود اس نوجون پر ہوگی۔ لہذا صدرپاکستان بننے کے خوگر نوجوان کو اس بات کا ہر طرح یقین کرلینا چاہیے کہ وہ جس خاتون کوپٹانے جا رہا ہے اس کے والد محترم ضرور وزیراعظم بن جایں گے۔ اگرکسی لمحے اسے شک گزرے کہ موصوف کے وزیراعظم بننے کے امکانات مسدود ہیں تو بھی چلے گا۔ صرف وراے اعظم کی لسٹ میں نام آجانا بھی کافی ہے۔ اس شکل  میں نوجوان کو صدر پاکستان بننے کے لیے خود بھی کچھ تگ و دو کرنا ہوگی جوکہ پاکستان جیسے ملک میں تھوڑا سا مشکل کام ہے۔

اس صورت میں یہ بھی ہو سکتا ہے کہ پھر اسے اس مضمون کے آخر میں دیے گئے بزرگوں کے صدر بننے کے فارمولے پر عمل کرنا پڑے۔

بہرحال وزیر اعظم کی بیٹی سے شا دی کے زریعے صدر بننے کے لیے بھی کوئی زیادہ پڑھائی لکھائی کی ضرورت نہیں۔ صرف اتنی مہارت ضروری ہے کہ آپ یہ دعوای کرسکیں کہ آپ نے برطانیہ یا امریکہ کی کسی یونیورسٹی سے ایم بی اے کر رکھا ہے۔ اگر نہ بھی کیا ہو تو بھی چلے گا لیکن کسی کو شک نہیں ہونا چاہیے کہ آپ  نے ایم بی اے نہیں کیا۔

جب آپ ایسی مطلوبہ خاتون سے شادی کرنے میں کامیاب ہو جایں تو جس طرح لفٹین کے جنرل بننے کے بعد صدر بننے کے امکانات روشن ہو جاتے ہیں اسی طرح آپ کے صدر بننے کے امکانات بھی روشن ہو جایں گے۔  شادمی کے بعد آپ کو کوئی خاص کام نہیں کرنا ہوگا۔ صرف اپنی بیوی کے تعلقات اور اثرورسوخ کے ذریعے کوئی ڈیڑھ دو بلین ڈالرزاکٹھے کرنا ہو گے۔ جو کہ آپ آسانی کے ساتھ کرسکیں گے۔ دس بیس ملین تو آپ کو سرکاری سودوں پر کمشن وغیرہ میں مل جایا کریں گے۔ باقی آپ آف شور کمپنیاں وغیرہ بنا کر آسانی کے ساتھ اربوں کھربوں ڈالر اکٹھے کرسکیں گے۔ برطانوی وزیر اعظم پیسے نہ ہونے کی وجہہ سے ٹرین میں سفر کرتا پکڑا جاے گا لیکن آپ جس ملک میں جایں گے ہر جگہ آپ کے اربوں ڈالرز اکاونٹ میں پڑے ہوں گے۔ چناچہ شہزادوں کی طرح زندگی گزاریں۔ صرف مناسب وقت اور موقع کی تلاش میں رہیں۔ گھر میں سیاست دان کی بیٹی یعنی اپنی بیوی پر نظررکھیں اور پاکستان کی سیاست کے اتار چڑھاو دیکھتے رہیں۔ جیسے موقع لگے زقند بھریں اور قصر صدارت جا پہنچیں۔

اس طرح قصر صدارت تک پہچنے میں اگر کوئی دشواریاں پیش آیں تو ان کا مردانہ وار مقابلہ کریں۔ اگر آپ باوردی قصر صدارت پہنچتے تو شاید یہ دشواریاں پیش نہ آتیں لیکن آپ نے لیلاے اقتدار تک رسائی کا جو راستہ اختیار کیا ہے اس میں غول بیابانی سے سابقہ تو پڑے گا۔ اس لیے گھبراے بغیر کبھی کبھار قصر صدارت میں کسی ایک آدھ بکرے کی قربانی دے دیا کریں۔ نہ آپ کو قصر صدارت سے بے دخل کر سکے گا اور نہ آپ کے کھربوں ڈالروں کو کوئی نظر بد سے دیکھ سکے گا۔

اس کے علاوہ صدر پاکستان بننے کے جو فارمولے ہیں وہ بغیر استثناے عمر کوئی بھی شخص ٹرائی کر سکتاہے۔ آخر خواب دیکھنا صرف نوجوان لوگو ں کا حق نہیں بڑے بوڑھے بھی خواب دیکھنے کا حق رکھتے ہیں۔ بلکہ انہیں عمر کے آخری حصے میں چند سال قصر صدارت میں گزارنے کے خواب ضرور دیکھنا چاہیں۔ کیونکہ عمر کے آخری سالوں میں یا بندہ نماز پڑھتا ہے یاحقہہ پیتا ہے۔

دونوں صورتوں میں قصر صدارت سے بہتر کوئی جگہہ نہیں۔ ویسے بھی سترھویں ترمیم کے خاتمے کے بعد قصر صدارت کا مکیں خشوع خضوع کے ساتھ نماز ادا کر سکتا ہے یا حقہہ پی سکتا ہے۔ رانی مکھر جی کو قصر صدارت بلانا ہو تو سترھویں ترمیم ضروری ہے۔

بہرحال ہم نے قصر صرارت تک پہنچنے کے لیے معمر لوگوں سے وعدہ کیا تھا کہ ان کے لیے بھی ایک آدھ فارمولہ موجود ہے۔

جو بڑے بوڑھے صدر پاکستان بننے کے خواب دیکھتے ہیں ان کے لیے بھی براستہ بٹھنڈہ صدرپاکستان بننے والے نوجوان کی طرح مناسب فارمولا یہ ہے کہ وہ کسی متوقع وزیر اعظم کی بیٹی پر نظررکھنے کے بجاے خود متوقع وزیراعظم پر نظر رکھیں۔ اور بہر صورت کوشش کریں کے وہ متوقع وزیراٰعظم کے آس پاس رہیں۔ کوشش کریں کہ وہ متوقع وزیر اعظم کی قربت کا کوئی موقع ہاتھ سے نہ جانے دیں۔ متوقع وزیراعظم کی ہر بات پر ہاں میں ہاں ملایں۔ اگر وہ کبھی مشورہ طلب کرے تو اسے ہمیشہ وہی مشورہ دیں جو وہ خود اپنے آپ کو دینا چاہتا ہو۔

صدر پاکستان بننے کے خواہشمند بزرگواران ہمیشہ اس بات کا خیال رکھیں کہ اپنی عمر کے تجربے کا متوقع وزیراعظم کوکبھی فایدہ پنچانے کا خیال بھی اپنے دل میں نہ آنے دیں ورنہ وہ بھی اس لفٹین کی طرح صدر پاکستان بننے سے پہلے کپتانی یا کرنیلی کے مرحلے پر لڑھک جایں گے جو اپنے سینیرز کی بیگمات کو خوش نہ رکھنے کی ایک آدھ غلطی کر بیٹھتے ہیں اور صدر پاکستان تو کجا برگیڈیر یا جنرل بھی نہیں بن پاتے۔

پس حرف: اگرمزکورہ وزیر اعظم ایک آدھ سیاسی پارٹی کا مالک بھی  ہوتو کامیابی کے امکانات دہ چند ہو جاتے ہیں۔  

  

Pakistan Weekly - All Rights Reserved

Site Developed and Hosted By Copyworld Inc.