Tuesday September 06, 2016

 

 CONTENTS

 Home

 News

 Editorial

 Opinion

 Fauji's Diaries

 Story

 Letters

 Community/Culture

 PW Policy

Ashraf's Articles-1

Ashraf's Articles-2

Ashraf's Urdu Poem

About Us

 

 

 

The Life of Jinnah

 

 

نئی قومی سیاسی پارٹی کی ضرورت

کے اشرف

پاکستان جس طرح کے مسائل میں گھرا ہے اس سے نجات کا صرف ایک راستہ ہے کہ پاکستان کے عوام ایک نئی قومی سیاسی پارٹی کی بنیاد رکھیں۔  اس پارٹی  کے پلیٹ فارم سے ملک میں ایسی تبدیلی کے عمل کا آغاز کریں جس کے نتیجے میں موجودہ استعماری گماشتہ نظام سے نجات پائی جا سکے۔  اور ایک ایسے سماج کی تعمیر کی بنیاد رکھی جاے جو حقیقی معنوں میں ان کی امنگوں اور آرزوں کی نہ صرف عکاسی کرے ٔ بلکہ ان کی تکمیل میں ان کا مددگار ثابت ہو۔

کیا موجودہ صورت حال میں ایسا کرنا ممکن ہے؟

اگر ہم پاکستان کی موجودہ صورت حال پر نظر ڈالیں تو یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ پاکستان کا موجودہ سیاسی ڈھانچہ بین الاقوامی استعمار کا قائم  کردہ  ایک  بندوبست ہے  جس میں موجود تمام سیاسی پارٹیاں اور لیڈر، ہمہ وقت ان استعماری قوتوں کے مفادات کے تحفظ میں دن رات مصروف  ہیں   جنہوں نے اس نظام کا ڈھانچہ کھڑا کیا ہے۔  

اس بات کی وضاحت اس ایک  بات سے باآسانی ہو سکتی ہے کہ عوام کا مہنگائی سے کچومر نکل گیا ہے ، لیکن  ورلڈ بینک  اب بھی پاکستان  میں  بجلی ، پانی  اور دیگر ضروری اشیاۓ زندگی کی قیمتیں  بڑھانا چاہتا ہے۔ صورت حال یہ ہے کہ قیمتوں میں کمی کی تدبیر کرنے کی بجاۓ صدرپاکستان سے لیکر وزیر اعظم اور وزیر خزانہ تک سارے اس کوشش ميں  مصروف ہیں کہ کس طرح عوام کو دھوکہ دے کر قیمتیں  بڑھائی جائیں تا کہ ورلڈ بینک کا مطالبہ پورا ہوسکے۔  

یہ ایک چھوٹی سی مثال پاکستان میں موجود اس استعماری ڈھانچے کا پول کھولنے کے لیے کافی ہے جس کی وجہ سے پاکستان کے عوام کی زندگیاں جہنم بنی ہوئی ہیں۔

پاکستان کی اصل کہانی یہ ہے کہ پاکستان کی تمام سیاسی پارٹیاں اورحکومتی ادارے بین الاقوامی استعمار کے تابع مہمل ہیں۔ ان کی اپناکوئی اصول  یا ایجنڈا نہیں ہے۔

پیپلزپارٹی، مسلم لیگ کی مختلف شاخیں، اے این پی، ایم کیوایم، جماعت اسلامی، جمعیت علماے اسلام، جمعیت علماے پاکستان، بلوچستان نیشنلسٹ پارٹی اور دیگر چھوٹی موٹی جماعتیں سب بین الاقوامی استعمار کی گماشتہ پارٹیاں ہے جو پاکستان میں بین الاقوامی استعمار کے مفادات کے تحفظ میں ایک دوسرے سے بڑھ چڑھ کر سرگرداں رہتی ہیں۔ ان سب کا قبلہ و کعبہ پاکستان یا پاکستان کے عوام کے مفادات کا تحفظ نہں بلکہ یہ ان بین الاقوامی استعماری طاقتوں کے لیے بھاگ دوڑ کرتی ہیں جو ان کی بقا اور ان کے اقدامات کی بین الاقوامی گارنٹیاں فراہم کرتی ہیں۔

پاکستان جن طوفانوں میں گھرا ہے  اور پاکستان کے عوام جن کمر توڑ مصائب سے دوچار ہیں اس کا ایک ہی حل ہے کہ پاکستان کے عوام ایک نئی قومی سیاسی پارٹی کو جنم دیں جو نہ صرف یہ کہ پاکستان میں موجودہ بین الاقوامی استعماری ڈھانچے کو مکمل طور پر ختم کرے بلکہ ساتھ ہی ساتھ ایک نئے سیاسی اور معاشی ڈھانچے کی بنیاد رکھے۔

نیا سیاسی ڈھانچہ ایک ایسے نئے سماجی معاہدے کی بنیاد پرکھڑا کرے جسے پاکستان کے زیادہ سے زیادہ عوام کی تائید حاصل ہواور بین الاقوامی استعماری قوتوں کی بجاۓ  پاکستان کے عوام اس سیاسی ڈھانچے کے مخافظ ہوں اور وہ سیاسی ڈھانچہ بین الاقوامی استعماری قوتوں کے مفادات کو تخفظ فراہم کرنے کی بجاے ٔ پاکستان کے عوام کی امیدوں اور امنگوں کی تکمیل کا سبب بنے۔

اس نئے سیاسی ڈھانچے کے ایسے معاشی اہداف ہونے چاہیں جن سے پاکستان میں حد سے بڑھتی امارت اور غربت کو لگام ڈالی جاے ٔ اور ایک ایسی معیشت قائم کی جاۓ جہاں لوگوں کو کام کاج اور کاروبار کی مکمل آزادی ہو لیکن انہیں یہ اجازت نہ ہو کہ وہ ایسے کاروباری ہتھ کنڈے استعمال کریں جس کی وجہ سے وہ امیر سے امیر تر ہوتے جائیں لیکن  پاکستان کے عوام روٹی کے نوالے کے لیے ترستے رہیں۔

اسی طرح اس نئے سیاسی ڈھانچے کے ایسے معاشی اہداف ہونے چاہیں جن کے ذریعے تیزی کے ساتھ پاکستان کے غریب لوگوں کو غربت سے نکال کر مڈل کلاس میں تبدیل کیا جاۓ جہاں سب کے لیے کرنے کے لیے مناسب کام، ان کے بچوں کے لیے مناسب تعلیم کے ذرایع ، رہنے کے لیے مناسب گھراور زندہ رہنے کے لیے آبرومندانہ سہولتیں میسر ہوں۔

ان مقاصد کی تکمیل پاکستان کی کوئی موجودہ گماشتہ سیاسی پارٹی نہیں کرسکتی۔

پیپلرپارٹی،  ذوا لفقارعلی بھٹو سے لیکر آصف زرداری تک ،  بس نام کی حد تک  پیپلز پارٹی ہے،  لیکن پاکستان میں  اس نے  ہمیشہ ایک گماشتہ پارٹی کا کردار ادا  کیا  ہے۔

مسلم لیگوں کے کردار کا تو ذکرکرنا بھی بیکار ہے۔  انہوں نے تو روز اول سے نہ صرف گماشتانہ کردار ادا کیا ہے  بلکہ شرمناک حد تک اندرون ملک لوٹ کھسوٹ کی قوتوں کے ساتھ ان کی پارٹنرشپ رہی ہے۔

مذھبی جماعتوں کا کردار تو  بے غیرتی کی حد تک شرمنا ک ہے۔ انہوں نے ہمیشہ اندرونی اور بیرونی لوٹ کھسوٹ کی قوتوں کی مذ ھبی بنیادوں پر مدد فراہم کی ہے۔

علاقائی اور لسانی بنیادوں پر کام کرنے والی پارٹیاں اور گروپ بھی بین الاقوامی سامراج کے ساتھ گماشتانہ گٹھ جوڑ رکھتی ہیں اور ان سے کوئی ایسی توقع وابستہ کرنا کہ بر سر اقتدار آ کر وہ موجودہ استعماری سیاسی  اور معاشی ڈھانچے میں ایسی تبدیلی لائيں گی جن سے پاکستان کے عوام  کے مصائب ختم ہو جائیں گے خام خیالی کے سوا کچھ نہیں۔

اس لیے یہ تاریخی عمل کا تقاضہ ہے کہ پاکستان کے عوام ایک نئی سیاسی پارٹی کو جنم دیں جو حقیقی معنوں میں ان کی آرزوں اور امنگوں کی ترجمان ہو اور جو ان کے مفادات کا تخفظ کرسکے اور پاکستان کو موجودہ اور آئندہ بحرانوں سے بچا کرایک مستحکم ، مضبوط اور ترقی یافتہ ملک میں تبدیل کر سکے۔

اس پارٹی کی ساخت کا کام نیچے سے شروع ہونا چاہیۓ۔ عوام کو اپنے اپنے شہروں اور دیہاتوں میں عوامی اجتماعات کرنے چاہیں۔ جہاں انہيں کسی چوہدری یا وڈیرے کے دباؤ میں آۓ بغیرفیصلہ کرنا چاہیۓ کی قومی سطح پر فیصلہ سازی میں ان کی نمائندگی کون کرے  گا۔ پھران لوگوں کا ایک قومی کنونشن منعقد ہونا چاہیۓ جو باہمی رضامندی سے ایک ایسی پارٹی کی بنیاد رکھیں جن کے اصول و قواعد کی ان کے شہریوں نے اجازت دی ہو۔

اگر ان میں سے کوئی  عوامی اصول و قواعد سے انحراف کرۓ تو اس کے علاقے کے عوام کو چاہیۓ کہ وہ فوراً اس کو نمائندگی سے ہٹا دیں۔ وہ لیڈران جو یہ سمجھتے ہیں کہ وہ عوام سے زیادہ عقلمند ہیں دراصل وہ عوام دشمن  سوچ کے حامل ہیں۔ ذوالفقار علی بھٹو نے کہا تھا کہ عوام طاقت کا سرچشمہ ہیں۔ جو بات بھٹو نے عوام کو نہیں بتائی تھی وہ یہ ہے کہ عوام صرف طاقت کا ہی نہیں عقل ودانش کا بھی سرچشمہ ہیں۔  جو حکمران یا سیاسی قائدین اپنے پارٹی ہیڈکواٹروں میں بیٹھ کر عوام کو طرح طرح کے درس دیتے ہیں وہ سیاسی مداری ہيں۔ جن کا مقصد عوام کی غلامیوں کو مستحکم رکھنے کے سوا کچھ نہیں۔

پاکستان کے عوام جتنی جلدی موجودہ سیاسی دوکانداروں سے نجات پا کر اپنی اجتماعی دانش سے نئے سیاسی ڈھانچے کو جنم دیں گے ان کی آزادی اور خوشحالی کا دور اتنی جلدی شروع ہوجاۓ گا۔

جب تک وہ ایسا نہيں کریں گے وہ کبھی سیاسی، سماجی اور معاشی آزادی حاصل نہیں کرسکیں گے۔

     

  

Pakistan Weekly - All Rights Reserved

Site Developed and Hosted By Copyworld Inc.