Tuesday September 06, 2016

 

 CONTENTS

 Home

 News

 Editorial

 Opinion

 Fauji's Diaries

 Story

 Letters

 Community/Culture

 PW Policy

Ashraf's Articles-1

Ashraf's Articles-2

Ashraf's Urdu Poem

About Us

 
 
 

The Life of Jinnah

 

 

لا آف نیچرل سیلکشن اور ریاست

کے اشرف

کوئی ملک، قوم یا ریاست فطرت کی چہیتی نہیں۔ سب ملکوں، قوموں اور ریاستوں پر ایک جیسے فطرت کے قوانین لاگو ہوتے ہیں۔ جو ملک،  قوم یا ریاست جتنے بہتراندازمیں ان قوانین کو سمجھتی اور اپنی اجتماعی زندگی میں ان کا اطلاق کرتی ہے اسی قدر دوسری اقوام کے مقابلے میں اس کی کامیابیوں اور کامرانیوں کے امکانات بڑھتے چلے جاتے ہیں۔

باالفاظ دیگر ریاستوں پر بھی لا آف نیچرل سیلیکشن ویسے ہی لاگو ہوتا ہے جیسے زندگی کی دوسری انواع پر۔

آج اگر اس صفحہ ارضی سے بہت سی انواع زندگی غایب ہوچکی ہیں تو اس کی وجہہ یہ تھی کہ وہ لا آف نیچرل سیلیکشن کے تحت اپنی مسابقتی انواع حیات یا صفحہ ارضی پر رونما ہونے والی فطرتی تبدیلیوں کے مطابق خود کو ایڈجسٹ نہ کرسکیں۔

باباے قوم قاید اعظم محمد علی جناح نے ہر عظیم ویڎینری لیڈر کی طرح اپنے قوم کے لیے تین بنیادی اصول مرتب کئے تھے۔

ایمان

اتحاد

تنظیم

ایمان سے بابا ے قوم کی مراد یقینا وہ ایمان نہیں تھا جس کا پرچار علماے اکرام چوبیس گھنٹے مسجدوں کے لاوڈ اسپیکروں پر کرتے رہتے ہیں۔ بلکہ ایمان سے مراد بحثیت قوم اپنے آپ پر، اپنی صلاحیتوں پر، اپنی اندرونی انرجی پر ایمان ہے۔

اتحاد سے بھی باباے قوم کی مراد اتحاد بین المسلمین نہیں بلکہ پاکستانیوں کے درمیان بحثیت قوم عظیم مقاصد کے حصول کے لیے اکٹھے ہو کر، فوکس اور یکتائی کے ساتھ جدوجہد کرنا ہے۔

اسی طرح تنظیم سے بھی باباے قوم کی مراد بحثیت ریاست پاکستان کی تخلیق کے پس منظر مقاصد کےلیے مسلسل اور منظم جدوجہد کرنا ہے۔

اگرقوموں پر لاگو ہونے والے لا آف نیچرل سیلکشن کا جائزہ لیا جاے تو باباے قوم نے ایمان، اتحاد اور تنظیم جیسے راہنما اصول مرتب کرکے قوم کے لیے ہمیشہ کے لے اس راہ کا تعین کردیا تھا جس پر چل کر نہ صرف پاکستانی بلکہ کوئی بھی قوم ایک بااثر، فعال اور کامیاب قوم کے طور پر دنیا میں اپنا مقام پیدا کر سکتی ہے۔

اسے پاکستانیوں کے بد قسمتی کہیے کہ پاکستان پر روز اول سے ایسی لیڈرشپ مسلط رہی ہے جو نہ صرف باباے قوم کے دیے گئے راہنما اصولوں کے معنی و مفہوم کا ادراک نہیں رکھتی بلکہ اس سمت میں کوئی مثبت قدم  اٹھانے سے بھی ہمیشہ قاصر رہی ہے۔

اگر صفحہ ارضی پر زندگی کی ابتدا سے لمحہ موجود تک زندہ رہنے والی کامیاب انواع کا جایزہ لیا جاے تو ان کی بقا میں بھی اتحاد اور تنظیم جیسی بنیادی صفات نے اہم کردار ادا کیا۔ جو انواع حیات جتنی متحد اور جتنی منظم تھیں انہوں نے فطرت میں رونما ہونے والے تبدیلیوں کا اتنی کامیابی کے ساتھ مقابلہ کیا اور اپنی بقا کویقینی بنایا۔ اور جو انواع حیات تبدیلی کے عمل کے ساتھ اپنے اندر ایسی صلاحیتییں پیدا کرنے میں کامیاب رہیں جو ان کی بقا کے لے ضروری تھیں وہ لاکھوں سال سے زندگی کے سفر پر کامیابی کے ساتھ گامزن ہیں۔

پاکستان نے اگر بحثیت ریاست زندہ رہنا ہے تو اسے باباے قوم کے راہنما اصولوں کی طرف واپس لوٹنا ہوگا۔ اسے ایمان، اتحاد اور تنظیم کے اصولوں پر عمل پیرا ہونا پڑے گا۔ ان ریاستوں کی خوبیاں اپنانی ہوں گی جو کامیاب ریاستیں ہیں۔ ان ریاستوں کی خرابیوں سے بتدریج نجات پانا ہو گی جن کا وجود حرف غلط کی حثیت رکھتا ہے۔

اگر پاکستان کے گزشتہ ساٹھ سالہ سفر پرنظردوڑائی جاے تو واضع ہو جاتا ہے کہ پاکستانیوں سے بحثیت قوم کہاں کہاں اور کیا غلطیاں واقع ہوئی ہیں اور پاکستان کی ہم سفر اقوام میں سے کس کس قوم نے کون کون سے اقدامات سے اپنے آپ کو با عزت اقوام میں تبدیل کیا ہے۔

اگرچہ اس وقت تک بہت دیر ہو چکی ہے اور پاکستان کے مسایل اتنے گہرے ہوچکے ہیں کہ ان میں سے کامیابی کے ساتھ پاکستان کو نکالنا انتہائی مشکل اور پیچیدہ کام ہے لیکن اگر پاکستان کا حکمران طبقہ پاکستان پر سب کچھ قربان کرنے کی عملی مثالیں پیش کرکے واضع اہداف کے ساتھ پاکستانی قوم کودعوت عمل دیں تو پاکستانی قوم پاکستان کی بقا کوضروری بنانے کے لیے اب بھی  دنیا کو حیرت زدہ کردینے کی صلاحیتوں سے مالا مال ہے۔

لیکن اگر پاکستان کے حکمران یہ چاہیں کہ ان کے اللےتللے بھی یوں ہی چلتے رہیں اور پاکستان اپنی زندگی اور موت کے ٹیسٹ میں سے کامیاب و کامران  گزر جاے تو اس کا امکان بہت کم ہے۔

جس عظیم قائد نے ایمان، اتحاد اور تنظیم کے عظیم الشان اصول قوم کودیے تھے اس نے نہ صرف اپنا سب کچھ پاکستان پر نچاور کردیا تھا بلکہ اپنی زندگی میں عملا ایسی مثالیں  قائم کی تھیں جن کی مثال بعد میں آنے والا کوئی پاکستانی لیڈر پیش نہیں کرسکا۔

یہ ہونہیں سکتا کہ پاکستان کے چپے چپے پر اس کے لیڈروں کی بد دیانتی، نااہلی، خود غرضی اور جعل سازی کی کہانیاں لکھی ہوں اور پاکستان ایک ریاست کی حثیت سے درپیش چیلنجز کا مقابلہ کرسکے۔

ریاستوں پر بھی لا آف نیچرل سلیکشن اسی طرح لاگو ہوتا ہے جیسے دوسری انواع حیات پر۔

فطرت افراد کی کوتاہیاں معاف کر دیتی ہے لیکن اقوام کی کوتاہیاں کبھی معاف نہیں کرتی۔ اقوام کو فطرت کی طرف سے اصلاح کے لیے صرف محدود مدت ملتی ہے۔ اگرقوم کے لیڈروں میں اتنی اہلیت نہ ہو کہ وہ اس مہلت سے فائدہ اٹھا کر اپنی قوم کی تعمیر کرسکیں تو فطرت ان کی قوم کو خزان زدہ پتے کی طرح حوادث کی آندھیوں کی حوالے کردیتی ہے۔ پھر نہ اس قوم کا نشان رہتا ہے اور نہ ان ناعاقبت اندیش لیڈروں کا۔

پاکستانی قوم کے ساتھ جو ہو رہا ہے سو تو ہو رہا ہے لیکن اصل ٹیسٹ اس کی لیڈرشپ کا ہے۔

کیا کوئی ہے جو ان باتوں پر غور کرے؟

  

Pakistan Weekly - All Rights Reserved

Site Developed and Hosted By Copyworld Inc.