Tuesday September 06, 2016

 

 CONTENTS

 Home

 News

 Editorial

 Opinion

 Fauji's Diaries

 Story

 Letters

 Community/Culture

 PW Policy

Ashraf's Articles-1

Ashraf's Articles-2

Ashraf's Urdu Poem

About Us

 
 
 

The Life of Jinnah

 

 

آخرامریکہ کی افغان پالیسی ہے کیا؟

کے اشرف

 

سب سے پہلے ایک بنیادی نقطہ۔ جب امریکی پالیسی کی بات ہوتی ہے تو لوگوں کوسمجھنا چاہیے کہ بین الاقوامی ایشوز پر وہائٹ ہاوس، پینٹاگان، اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ، واشنگٹن پوسٹ اور نیویارک ٹائمز سب ایک ہیں۔ اگر ان میں سے کوئی ایک ادارہ مختلف راے کا اظہار کرتا ہے تو اس کا مطلب صرف ایشوکے ان زاویوں پر روشنی ڈالنا ہوتا ہے جو کسی وجہہ سےدوسرے اداروں کی توجہہ سے باہر ہوتے ہیں۔ یوں یہ سارے ادارے مل جل کر بنیادی طور پر امریکی مفادات کو آگے بڑھانے میں ایک دوسرے کی مدد کرتے ہیں۔ اور جہاں تک ہو سکے پالیسی ٹارگٹ کے حصول میں بہتر سے بہتر اپروچ کی ساخت میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔

 

اس نقطہ کی وضاحت کے بعد آیے سمجھنے کی کوشش کریں کہ آخر پاکستان اور پاکستان کے ارد گرد خطے کے بارے میں امریکی پالیسی ہے کیا؟

 

اس سوال کے جواب کےلیے ہمیں یہ جاننا ہوگا کہ بطور ریاست امریکہ کی فطرت کیاہے، اس کی ترجیحات کیا ہیں، ان ترجیحات کی تکمیل کے لیے امریکہ کس قسم کی اسٹریٹجیزاور طریقہ ہاے کار استعمال کرتا ہے۔

اور پھر یہ کہ پاکستان اور پاکستان کے ارد گرد خطے کے بارے میں امریکہ کی ترجیحات کیا ہیں، امریکہ ان ترجیحات کی تکمیل  کے لیے کیا اسٹریٹجیزاستعمال کر رہا ہے اور کونسے طریقہ کار پر عمل پیرا ہے؟

 

سب سے پہلے امریکہ کی بطور ریاست فطرت کے بارے میں: 

بنیادی طور پر دنیا میں تیں طرح کی ریاستیں پائی جاتی ہیں۔ بدقسمتی سے ان ریاستوں  کی فطرت اور کردار کی وضاحت  کے لیے ہمیں حیوانی دنیا کی مثال دینی پڑے گی۔ 

 

جس طرح حیوانوں میں سر فہرست وہ حیوان ہیں جو دوسرے جانوروں کا شکار کرتے ہیں اور ان کے شکار  پر زندہ رہتے ہیں اسی طرح ریاستوں میں کئی ریاستیں ہیں جو ریاستوں کا شکار کرتی ہیں اور ان کے وسایل پر زندہ رہتی ہیں۔

 

حیوانوں کی فہرست میں دوسرے وہ حیوان ہیں جو خود تو شکار نہیں کرتے لیکن شکاری جانوروں کے شکار سے مستفید ہوتے ہیں اور ٹولیوں کی شکل میں یا تنہا ان شکاری جانوروں کے آگے پیچھے رہتے ہیں تا کہ جیسے ہی شکاری جانور شکار کریں تو یہ اس میں   سے اپنا حصہ وصول کریں اور اپنا کاروبار حیات چلایں۔ بالکل ان حیوانوں کی طرح بعض ریاستیں ان شکاری ریاستوں کے آگے پیچھے رہتی ہیں جو دوسری ریاستوں کا شکار کرتی ہیں۔

 

فہرست ميں تیسرے نمبر پر وہ حیوان آتے ہیں جو شکاری جانوروں کا شکار بن کر ان کے دسترخوان کی زینت بن جاتے ہیں۔ بالکل ایسے ہی بعض ریاستیں شکاری ریاستوں کا شکار بن کر ان کے دسترخوان کی زینت بن جاتی ہیں۔ 

شکار ہونے والی ریاستوں کا قائم رہنا یا مٹ جانا بینادی طور پر شکار کرنے والی ریاستوں کی صوابدید پر منحصر ہوتا ہے۔  اگر شکاری ریاست شکارہونے والی ریاست کو زندہ رہنے کی اجازت دے تو ثانی الزکر ریاست کو اول الزکرریاست  کی تابع مہمل بن کر زندہ رہنا پڑتا ہے ورنہ وہ اپنے وجود سے ہاتھ دھو بیٹھتی ہیں۔

 

اس کلاسیفکیشن کے حوالے سے اگر امریکہ  کے ریاستی کردار کی درجہ بندی کی جاے تو اس کا شمار باآسانی شکاری ریاستوں میں کیا جا سکتا ہے۔ گزشتہ دو سو سال میں امریکہ نے تقریبا دو سو سے زاید

کامیاب یا ناکا م ملٹری آپریشن کیے۔ کئی آپریشن کامیابی کے ساتھ اپنے اہداف پر پہنچےاور کئی بری طرح ناکام ہوے۔ کئی آپریشنز میں امریکہ اور ٹارگٹ ریاست کا کم سے کم جانی اور مالی نقصان ہوا اور کئی ایک  میں امریکہ اور ٹارگٹ ریاست کو بہت زیادہ جانی اور مالی نقصان اٹھانا پڑا۔ جیسے گوام پرقبضے کے دوران امریکہ اور گوام دونوں کسی بھی قسم کے جانی اور مالی نقصان سے محفوظ رہے لیکن ویت نام میں کروڑون ویت نامی مرے، چالیس ہزار امریکی فوجیوں کی ہلاکت ہوئی اور دونوں طرف مالی نقصان کا تخمینہ اربوں تک پہنچا۔

 

اس وضاحت کے بعد اگر افغانستان کے حوالے سے امریکی پالیسی کا جائزہ لیا جاے تو اس ضمن میں دو بنیادی سوال پیدا ہوتے ہیں۔ ایک یہ کہ امریکہ کےافغانستان میں اہداف کیا ہیں؟ دوسرا یہ کہ ان اہداف کے حصول کے لیے امریکہ کی اسٹریٹجی کیا ہے؟

 

اپنی پالیسی تقریر میں صدر اوباما نے اگرچہ دنیا کی کنزمپشن کے لیے افغانستان میں امریکی افواج میں اضافے کا عندیہ دیتے ہوے امریکی افواج کے لیے چار اہداف مقرر کئے ہیں۔

 

لیکن اس پالیسی تقریر کا اصل ہدف بھی افغانستان میں ایک ایسی ریموٹ کنٹرول اور پائدار حکومت کا قیام ہے جو پہلے  امریکہ کی افغانستان سے  رخصتی ممکن بناے اور خصتی کےبعد خطے میں اس کے مفادات کا تحفظ کرے۔

 

یہی وہ ہدف ہے جو امریکہ اپنی شکار شدہ ریاستوں کا شکار کرنے کے بعد ان کے لیے تعین کرتا ہے۔ جیسے ہی یہ ہدف پورا ہوتا ہے امریکہ شکارشدہ ریاستوں میں محدود فوج رکھنے کا معاہدہ کرکے وہاں سے رخصت ہوجاتا ہے ۔ لیکن معاہدے کے تحت محدود فوج اس ملک میں موجود رہتی ہے۔

 

اس سلسلے میں کئ ممالک کی مثال دی جاسکتی ہے جہاں پہلے امریکہ نے فوج کشی کی۔ اس کے بعد وہاں مرضی کی حکومتیں قائم کیں۔ اور بعد میں معاہدوں کے تحت ان ریاستوں میں نگرانی کے لیے محدود فوج چھوڑ کردنیا کو یہ تاثر دیا کہ امریکہ وہاں کچھ مسایل کے حل کے لیے آیا تھا۔ مسئلہ حل ہونے کے بعد وہاں سے چلا گیا۔ ان ریاستوں میں سر فہرست جاپان، جرمنی، اور جنوبی کوریا کی مثالیں ہیں۔ جہاں کئی کئی دہایاں گزرنے کے  بعد امریکی افواج اب بھی موجود ہیں۔    

 

اس ضمن میں ایک غلط فہمی کے ازالے کے لیے کہ امریکہ افغانستان سے رحصت ہو جاے گا، جیسا کہ صدر اوباما صاحب نے اپنی پالیسی  تقریرمیں کہا ہے،  قارین کوہماری شکاری ریاستوں والی وضاحت  کی طرف اور ان ریاستوں کی طرف  توجہہ دینا ہوگی جہاں کئی دہائیوں کے بعد بھی امریکی افواج آج بھی موجود ہیں۔ اس کے بعد قارین کوخود  سے یہ سوال کرنا ہوگا کہ کیا   امریکہ افغانستان میں اس لیے اربوں اور کھربوں ڈالر خرچ کررہا کہ وہ چند سالوں بعد وہاں سے رخصت ہو جاے؟

 

امریکہ نے افغانستان کی ریاست کا ایک شکاری ریاست کی حثیت سے شکار کیا ہے۔ چناچہ افغانستان میں امریکہ کی کامیابی کے ہدف کا تعین افغانستان پر امریکی کٹرول کرے گا۔ اگر امریکہ کو آج افغانستان میں، جیسا کہ ہم نے اوپر بیان کیا ہے،  مکمل کنٹرول حاصل ہو جاتا ہے تو امریکہ کل افغانستان سے چلا جاے گا لیکن اگر یہ کنٹرول آیندہ کئی دہایوں تک حاصل نہیں ہوتا تو باوجود امریکہ میں صدارتوں اور انتظامیہ کی تبدیلیوں کے یہ آپریشن اس وقت تک چلتا رہے گا جب تک امریکہ کے اندرونی وسایل امریکہ کا ساتھ دیں گے یا افغانی امریکہ کی افغانستان میں موجودگی کی قیمت اس حد تک نہیں بڑھا دیتے کہ امریکہ کا وہاں قیام مشکل ہو جاے۔

 

اس ساری تفصیل اور وضاحت کے بعد پاکستان اور پاکستان کے ارد گرد کے خطے کے بارے میں امریکی پالیسی، اس کی اسٹریجیز، اوراس کے ایکشنز سمجھنا آسان ہو جاتا ہے۔ 

 

وہ پاکستانی جو افغانستان میں امریکہ کی کامیابی کی بات کرتے ہیں ، جن میں پاکستان کے وزیر اعظم بھی شامل ہیں، دراصل ان کا مقصد افغانستان میں امریکہ کے مکمل کنٹرول کے ہدف  کا حصول ہے۔

 

سوال پیدا ہوتا ہے کہ افغانستان میں امریکہ کی کامیابی کے کتنے امکانات ہیں؟ کیا امریکہ افغانستان میں اسی طرح کا ریموٹ کنٹرول سیٹ اپ قائم کرنے میں کامیاب ہو جاے گا جیسا اس نے اپنی دیگر مفتوح ریاستوں میں قائم کررکھا ہے؟

 

ہمارا تجزیہ کہتا ہے کہ وقت کے ساتھ ساتھ افغانستان میں امریکہ کی افغانستان میں موجودگی کی قیمت بڑھتی جاے گی۔ اور آخرکار امریکہ کو افغانستان سے اپنا ریموٹ کنٹرول سسٹم سیٹ کئے بغیر رخصت ہونا پڑے گا۔

 

ہمارے اس تجزیے کے پیچھے صرف ایک نقطہ کارفرما ہے اور وہ یہ ہے کہ افغانی بھی امریکیوں کی طرح ایک شکاری قوم ہیں انہوں نے بھی گزشتہ ہزار ہا سال سے ارد گرد کی قوموں اور ریاستوں کا شکا ر کیا۔ امریکہ کو افغانستان ميں ٹیکنالوجی کی برتری حاصل ہے لیکن افغانیوں کو جغرافیائی برتری حاصل ہے۔ بل کل ایسے ہی جیسے ویت نامیوں کو امریکہ کی ٹیکنالوجیکل برتری کے مقابلے میں حاصل تھی۔

 

  

Pakistan Weekly - All Rights Reserved

Site Developed and Hosted By Copyworld Inc.