Tuesday September 06, 2016

 

 CONTENTS

 Home

 News

 Editorial

 Opinion

 Fauji's Diaries

 Story

 Letters

 Community/Culture

 PW Policy

Ashraf's Articles-1

Ashraf's Articles-2

Ashraf's Urdu Poem

About Us

 
 
 

The Life of Jinnah

 

دہشت گردی اور منافقت

کے اشرف

چند روز کے ٹہراو کے بعد پاکستان میں دوبارہ دہشت گردی کی نئی لہر کا آغاز ہو رہا ہے۔

دو دن پہلے اسلام آباد میں نیول ہیڈ کواٹرپر متوقع حملہ روکنے میں نیوی کے دو سیکورٹی اہل کار ہلاک ہوے لیکن انہوں نے ایک بہت بڑے المیے سے وہاں موجود نیوی کے دیگر ملازمین کو بچا لیا۔

آج راولپنڈی میں مسجد پر خود کش حملہ آوروں نے ایک حملے میں بیالیس کے قریب نمازی ہلاک کیے اور اسی کے قریب معصوم لوگوں کو زخمی کیا۔ ہلاک ہونے والوں میں ایک میجر جنرل اور ایک بریگیڈیربھی شامل ہیں۔  

حسب معمول مختلف لوگوں نے حملے کی مزمت کی، کسی نے امریکہ کو کوسا، کسی نے بھارت کی طرف انگشت نمائی کی، کسی نے فاٹا میں جاری آپریشن کا حوالہ دیا، کسی نے الطاف بھائی کے فلسفے کی سچائی کی طرف توجہ دلائی اور کسی نے حکومت وقت کی غفلت اور لاپرواہی کو تنقید کا نشانہ بنایا۔

لیکن ان مبصروں میں سے کسی نے اپنے گریباں میں جھانک کر دیکھنے کی ضرورت محسوس نہیں کی کہ خود  اس نے اور جن قوتوں کو وہ نمائندگی کر رہا ہے پاکستان کو اس حال تک پنچانے میں کیا کردار ادا کیا ہے۔

حالنکہ پاکستان جس طرح دہشت گردی سے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو رہا ہے شاید اس وقت سب سے زیادہ ضرورت اگر دوسروں سے نہیں تو کم ازکم اپنے آپ سے سچ بولنے کی ہے۔

پاکستانیوں میں منافقت اس حد تک سرایت کرچکی ہے کہ لوگ اب اجتمائی بربادی کے واقعات پر تبصرہ کرتے ہوے بھی ان سیاسی و سماجی مفادات کا خیال رکھتے ہیں جو انسان کی سوچ کی صحت پر سب سے زیادہ اثر انداز ہوتے ہیں اور انسان کو صحیح حقائق تک پہنچنے اور پھر ان کے حل کے لیے صحیح لائحہ عمل اختیار کرنے میں مدد دیتے ہیں۔

بہرحال پاکستان کو اس افسوس ناک مقام تک دھکیلنے میں پاکستان کے سین پر مسلط سب قوتوں نے کوئی نہ کوئی کردار ادا کیا ہے۔  اس کار مزموم میں ہر ایک قوت نے حسب ضرورت، موقع کی مناسبت سے،  اپنا اپنا حصہ پہلے بھی ڈالا اور اب بھی ڈال رہے ہیں۔

پاکستان میں اس بڑھتی ہوئی دہشت گردی کو اگرروکنا ہے تو سب سے پہلے ان سب قوتوں کواپنے اپنے گریبانوں میں جھانک کراپنے اپنے کردار کا جائزہ لینا ہو گا۔

پاکستان کی سیکورٹی فورسز کو سوچنا ہوگا کہ وہ وقتا فوقتا جن بین الاقوامی محرکات کی بلا وجہہ اور بلا ضرورت حصہ بن جاتی ہیں آخر وہ کون سی قوتیں ہیں جو ان کو ان محرکات میں حصہ داربناتی ہیں۔

ان مزھبی جماعتوں کے راہنماوں کو جو دہشت گردی کے واقعات پر تبصرہ کرنےکے لیے منہ کھولتے ہیں اور اپنی بات کا آغاز امریکہ کو گالیاں دینے سے شروع کرتے ہیں انہیں بھی اپنے گریبان میں جھانکنے کی ضرورت ہے کہ وہ کیسے کیسے پاکستان میں امریکہ کے مفادات کو آگے بڑھانے کے لیے کیا کیا کھیل کھیلتے رہے ہیں اور کسی نہ کسی طرح اب بھی اس کھیل کا حصہ ہیں۔ انہیں قوم کو یہ بھی سچائی سے بتانا چاہیے کہ خود انہوں نے پاکستان میں دہشت گردی کی ترویج واشاعت اور افزایش میں کب کب اور کتنا کتنا حصہ ڈالا ۔

اور وہ جو پاکستان کو درپیش دہشت گردی کے ہر واقعہ پر قوم کو اپنے قاید کے فلسفے کی عظمت اور سچائی کا درس دیتے ہیں انہیں بھی سوچنا چاہیے کہ خود ان کے دامن پر پاکستان کے اندر قتل و غارت اور دہشت گردی کے کس کس واقعہ کے دھبے موجود ہیں اور وہ ان دھبوں کو قوم کو اپنے قاید کے فلسفے کی عظمت اور سچائی کی داستانیں سنانے کی بجاے کیسے دھو سکتے ہیںہ

پاکستان میں دہشت گردی ایک سنجیدہ مسئلہ ہے۔ اس کی سنجیدگی کا اندازہ اس کے نتائج کے حوالے سے باآسانی کیا جا سکتا ہے۔ جن میں سے سب سے خطرناک نتیجہ پاکستان کا بحثیت ریاست خاتمہ بھی ہوسکتا ہے۔ اور اگر پاکستان بطور ریاست ختم ہوتا ہے، اس کے نتیجے میں پورے خطے میں جو تباہی و بربادی پھیل سکتی ہے، اس کے تصور سے بھی ہول اٹھنے لگتے ہیں۔

اس لیے دہشت گردی پر منافقانہ تبصرے  کرنے والوں سے ہماری گزارش ہے کہ وہ صورت حال کی سنگینی کو سمجھیں اور اپنے تعصبات میں لتھڑے ہوے خیالات کو اپنے تک محدور رکھیں اور پہلے سے متعفن اور خون آلودہ فضا کو مزید خراب نہ کریں۔

اس کے بعد ہماری سیکورٹی فورسز سے گزارش ہے کہ وہ دہشت گردی سے نبٹنے کے لیے ایک جامع پالیسی مرتب کریں۔ ایک موثر اور فعال باڈی قائم کریں جو غیر پیشہ ورانہ معاملات کو دہشت گردی سے نبٹنے کے اقدامات سے الگ رکھے اور پیشہ ورانہ انداز میں اس چیلنج سے نبٹنےکے لیے اقدامات کرے۔

اس ضمن میں ایک اہم ترین قدم ان والدین تک پہنچنا ہے جن کے بچے دہشت گردوں کا آلہ کار بن کر ایسے اقدامات کرتے ہیں جس کے نتیجےمیں بے شمار معصوم لوگ اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔

یہ ہو نہیں سکتا کہ کسی فیملی کا ایک نوجوان بچہ ایسی سرگرمیوں میں مصروف ہو اور دوسرے فیملی ممبران کو اس بچے کی حرکات و سکنات کا اندازہ نہ ہو۔

تمام ممکنہ ذرائع سے ایسے خاندانوں کو یہ پیغام دینا کہ اگر وہ اپنے بچے کی سرگرمیوں سے احکام کو اطلاع دیں گے تو نہ صرف وہ اپنے بچے کی جان بچانے میں کامیاب ہوں گے بلکہ ان کے اس عمل سے بے شمار معصوم لوگ ہلاکت سے محفوظ رہیں گے۔

مولانا حضرات جن سے باربار رحمان ملک صاحب خود کش حملوں کے خلاف فتوں کی اپیل کرتے ہیں ہماری ان سے درخواست ہے کہ وہ علما سے فتوے جاری کروانے کی بجاے ان کو کہیں کہ وہ اپنی مسجدوں سے پاکستان بھر کے خاندانوں میں یہ پیغام پہنچایں کہ اگر ان کواپنے بچوں پراس طرح کی سرگرمیوں میں شرکت کا شبہ ہو تو وہ حکام کو اطلاع دے کر اپنے بچوں اور ہم وطنوں پر احسان کریں۔

وہ خاندان جو ایسے بچوں کی نشان دہی کریں ان کے اور ان کے بچوں کی جزباتی بحالی کے لیے اقدامات کریں۔ تا کہ سوسائٹی میں مثبت پیغام جاے۔ اور ایسے بچوں کے خاندانوں کو ہمت ملے کہ وہ ایسےبچوں کو موت کے منہ سے بچانے کے لیے حکام کے ساتھ تعاون کرنے کو بہترآپشن خیال کریں۔

اسی طرح ہر ایسے واقعہ کے بعد صدر، وزیراعظم، وزیرداخلہ اور دیگر حکام کے طرف سے اشتعال انگیز بیانات کا سلسلہ بند ہونا چاہے۔ یہ حکام اپنی سرکاری پناہ گاہوں سے باہر قدم نہیں رکھ سکتے لیکن دھمکی آمیز بیانات جاری کرکے دہشت گردوں کے عزائم کو مزید انگیخت دینےکے سوا کسی اور مقصد کی تکمیل نہیں کرتے۔

اسی طرح اس طرح کے بیانات کا سلسلہ بھی بند ہونا چاہیے کہ کوئی مسلمان یہ نہیں کرسکتا۔

جو نوجوان بچے خود کش حملوں میں ملوث ہیں وہ مسلمان ہیں اور مسلمانوں کے بچے ہیں۔ ان کی خود کشانہ ذہنیت کے پیچھے وہ مذھبی ترغیبات بھی شامل ہیں جن کا پرچار ہمارے علما دن رات مسجدوں کے ممبروں سے کرتے رہتےہیں۔

پاکستان میں دہشت گردی کا جو سلسلہ چل رہا ہے اس کا اس وقت تک خاتمہ نہیں ہوسکتا جب تک پاکستان کے سیاسی، سماجی، مذھبی اور ریاستی سین پر چھاے لوگ منافقت چھوڑ کر سچ بولنے کی عادت نہیں اپناتے۔ جب تک یہ لوگ جھوٹ، منافقت اور دھوکہ دہی کے لبادے اوڑھے رہیں گے پاکستان کی صورت حال خراب سے خراب تر ہوتی جاے گی۔ اور دہشت گری اسی طرح پھیلتی رہے گی۔

دہشت گردی کے خلاف سب سے بڑا ہتھیارہے سچ، صاف ستھرا سچ، اپنے ساتھ، اپنے لوگوں کے ساتھ اور باقی دنیا کے ساتھ۔ لیکن ہمیں افسوس سے کہنا بڑتا ہے کہ پاکستان میں اچھا برا سب کچھ بہتات کے ساتھ ہے لیکن سچ بلکل نہیں۔  اور اس بات کی کوئی امید بھی نہیں کہ پاکستان کے سیاسی، سماجی ، مذھبی اور ریاستی سین پر چھاے لوگ کبھی سچ بولیں گے۔ ان میں سرے سے وہ جوہر موجود نہیں جو انسان کو سچ بولنے پر آمادہ کرتا ہے۔

  

Pakistan Weekly - All Rights Reserved

Site Developed and Hosted By Copyworld Inc.