Tuesday September 06, 2016

 

 CONTENTS

 Home

 News

 Editorial

 Opinion

 Fauji's Diaries

 Story

 Letters

 Community/Culture

 PW Policy

Ashraf's Articles-1

Ashraf's Articles-2

Ashraf's Urdu Poem

About Us

 
 
 

The Life of Jinnah

 

اب وہ تاریخی جملہ کون دہراے گا؟

کے اشرف

گزشتہ 10 سا لوں میں پاک امریکہ تعلقات میں کئ ایسے لمحات آے جو پاکستان کے دامن کو مزید خون آلودہ کر گئے۔ اس صورت حال میںضرورت اس  امر کی تھی کہ پاکستانی حکمران امریکی حکمرانوں سے زیا دہ بہترگفتگو کرتے لیکن کوئی پاکستانی صدر یا وزیر اعظم ممیانے کے سوا کوئی صحیح جملہ ادا نہ کرسکا سواے اس ایک جملے کے جو کبھی ایک پاکستانی وزیراعظم نے ایک امریکی صدر کے سامنے ادا کیا تھا۔   پاکستانی وزیر اعظم نے نہ صرف  وہ تاریخی  جملہ بہترین الفاظ میں ادا کیا  بلکہ اس پر من و عن عمل بھی کیا۔

پاکستان گزشتہ دس سالوں میں جن حالات سے گزر رہا ہے اس کا آغاز اس ایک فون کال سے ہوا تھا جب پاکستان پر ایک پاکستانی تاریخ کا بزدل تریں، ظالم تریں اور احمق ترین فوجی حکمران مسلط تھا جو بڑے فخر کے ساتھ خود کو کمانڈو کہتا تھا لیکن ہر اس وقت اس کی پینٹس پیشاب سے بھیگ جاتی تھیں جب اسے کسی بیرونی چیلنج کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔ جب ایک فون کال پر وہ جعلی اور احمق صدر صحیح فیصلہ نہ کرسکا تو پھر نہ اس کی حماقتوں  کی انتہا رہی اور نہ پاکستان کی ذلتوں کی۔ پاکستان دس سال میں  ہر محاذ پرمسلسل  پسپائی اختیار کرتے ہوے اس حد تک دیوار سے جا لگا کہ موجودہ نام نہاد منتخب صدر اور وزیراعظم بھی اس جعلی کمانڈو صدر کی کھینچی لکیروں سے باہر نہیں نکل سکتے۔

اب صورت حال یہ ہے کہ ابھی کل صدر امریکہ نے افغانستان میں مزید تیس ہزار امریکی فوجی بجھوانے کا اعلان کیا ہے۔ اعلان سے پہلے صدر امریکہ نے پاکستانی صدر اور وزہر خارجہ نے پاکستانی وزیر اعظم کو فون پر اعتماد میں لیا۔

پہلے تو اس اعتماد میں لینے کے جملے کا جواب نہیں۔ نہ امریکہ کی طرف نہ پاکستان کی طرف سے۔

جنرل مشرف سے لے کر صدر زرداری تک جس طرح امریکی حکمران پاکستانی حکمرانوں کو اعتماد میں لیکر اس خطے میں جو کاروایا ں کر رہے ہیں اس کے جو نتائج برآمد ہو رہے ہیں ان کا بھی کوئی جواب نہیں۔ اور جو نتائج بعد میں نکلیں گے ان کی صرف دھندلی سی تصویر دیکھی جا سکتی ہے ان کے بارے میں ابھی حتمی طور پر کچھ کہا نہیں جا سکتا۔

تاہم پاکستانی عوام کو مطمعں رہنا چاہیے کہ یہ سب کچھ امریکی اور پاکستانی حکمران ایک دوسرے کو اعتماد میں لیکر کر رہے ہیں۔ ویسے امریکی حکمرانوں کی طرف سے پاکستانی حکمرانوں کو اعتماد میں لینے کا سلسلہ امریکہ اور پاکستان میں ہونے والی سیاسی تبدیلیوں کے بعد شروع ہوا ہے۔ صدر بش کے زمانے تک تو امریکی حکمران پاکستانی حکمرانوں کو پاکستان کے اندر اور پاکستان کے ارد گرد کوئی بھی کاروائی کرتے وقت اعتماد میں لینے کی ضرورت محسوس نہیں کرتے تھے۔ بلکہ بتانے کی ضرورت بھی محسوس نہیں کرتے تھے۔ اب چیونکہ پاکستان میں ماشا اللہ ایک منتخب صدر، منتخب وزیر اعظم، منتخب وزیر خارجہ اور منتخب پارلیمنٹ ہے اس لیے امریکی صدر افغانستان میں کوئی بھی کاروائی کرنے سے قبل پاکستان کے صدر اور وزیر اعظم کو اسی طرح اعتماد میں لیتے ہیں جیسے افغانی صدر حامد کرزئی کو۔

بہر حال بات شروع ہوئی تھی اس ایک تاریخی جملے سے جو کبھی ایک پاکستانی وزیر اعظم نے ایک امریکی صدر سےکہا تھا اور پھر اس وزیر اعظم نے امریکی صدر سے جو کہا امریکہ کی مخالفت کے باوجود  من و عن اس پر عمل بھی کیا۔

یہ وہ تاریخی  جملہ تھا جو وزیر اعظم نواز شریف نے امریکی صدر بل کلنٹن کی ایٹمی دھماکہ کرنے سے قبل پانچویں اور آخری کال پر کہا تھا اور اس کے بعد وزیر اعظم پاکستان اور صدر امریکہ کی گفتگو ختم ہو گئی۔ یہ جملہ اب بھی پاکستان فارن آفس کے ریکارڈ کا حصہ ہے۔ کاش نام نہاد کمانڈو صدر تیرہ ستمبر 2001 کی شام آنے والی امریکی اہل کاروں کی کال سے پہلے یہ جملہ پڑھ لیتا یا کاش آج کے منتخب صدر اور وزہر اعظم امریکی صدر سے اعتماد کے لیے آنے والی کالوں سے پہلے یہ جملہ پڑھ لیا کریں تو پاکستان اپنے مسایل کی دلدل سے بہتر انداز میں نکل سکتا ہے۔

جس تاریخی جملے کی ہم بات کر رہے ہیں اس کا پس منظر یہ ہے کہ انڈیا کے مئی 1998کے اوایل کے  ایٹمی دھماکے کے جواب میں پاکستان نے بھی ایٹمی دھماکے کی تیاریاں شروع کیں تو دنیا بھر کے حکمرانوں کی طرف سے ڈپلومیسی شروع ہو گئی کہ کسی طرح پاکستان کو جوابی ایٹمی دھماکوں سے روکا جاے۔ پاکستانی قوم چاہتی تھی کہ انڈیا کے جواب میں دھماکہ ہونا چاہیے۔ کچھ پاکستانی دانشور اور تجزیہ نگار بھی جوابی دھماکے کی مخالفت کررہے تھے۔ وزیر اعظم نواز شریف کو دنیا بھر کے حکمرانوں سے کالیں آ رہی تھیں جن میں صدر امریکہ بل کلنٹن کی پانچ کالیں بھی شامل تھیں۔ صدر امریکہ بل کلنٹن کی آخری کال جو دھماکے سے تھوڑی دیر قبل آئی تھی جس میں صدر امریکہ نے وزیر اعظم پاکستان پر ہر حربہ آزمانے کے بعد کہا تھا کہ مسٹر پرائم منسٹر پھر میں مجبور ہوں گا کہ اپنے قوانین پر عمل کرتے ہوے پاکستان کے خلاف کاروائی کروں۔  جس کے جواب میں پرائم منسٹر نواز شریف نے کہا تھا مسٹر پریزیڈنٹ آپ وہ کریں جو آپ کا قانوں کہتا ہے اور میں وہ کروں گا جس میں میرے ملک کا مفاد ہے۔

یہ وہ تاریخی جملہ ہے جو نہ نام نہاد بزدل کمانڈو صدرنو سال تک  ادا کرسکا اور پاکستان کودرپیش چیلنج کے لیے کوئی بہتر اور آبرہ مندانہ حل نکال سکا اور نہ آج کے منتخب صدر اور وزیر اعظم بار بار اعتماد میں لیے جانے کے باوجود ادا کرنے کی ہمت رکھتے ہیں نہ اہلیت۔

امریکی پاکستان اور پاکستان کے ارد گرد  وہ کررہے ہیں جوان کے مفاد میں ہے یا جو وہ سمجھتے ہیں کہ ان کے مفاد میں ہے اور جو انہیں کرنا چاہیے لیکن پاکستان کی طرف کوئی لیڈر، صدر، وزیراعظم یا وزیرخارجہ نہیں جو فون پر اعتماد میں لیے جانے کے جواب میں ممیانے کے علاوہ  کہہ سکے کہ جناب عالی،  آپ کے مفادات بجا لیکن کچھ ہمارے بھی مفادات ہیں اور وہ آپ کے مفادا ت سے لگا نہیں کھاتے۔ چناچہ آپ وہ کریں جس کا تقاضہ آپ کے مفادات کرتے ہیں لیکن ازراہ کرم ہمارے مفادات کی نگرانی کے لیے ہمیں تنہا چھوڑ دیں۔ ہم اپنے مفادات کا تحفظ آپ کی مدد کےبغیر آپ سے بہترانداز میں کر سکتے ہیں۔ 

  

Pakistan Weekly - All Rights Reserved

Site Developed and Hosted By Copyworld Inc.