Tuesday September 06, 2016

 

 CONTENTS

 Home

 News

 Editorial

 Opinion

 Fauji's Diaries

 Story

 Letters

 Community/Culture

 PW Policy

Ashraf's Articles-1

Ashraf's Articles-2

Ashraf's Urdu Poem

About Us

 
 
 

The Life of Jinnah

 

 

 زرداری صاحب  کا صدارتی استحقاق

 یا انسانی حقوق

کے اشرف

 

برکلے، کیلیفورنیا: 16 نومبر- اکثر و بیشتر حکمران اپنی غیر قانونی حرکتوں کا دفاع کرنے کے لیے "صدارتی استحقاق" جیسی اصطلا حات کا سہارا لیتے ہیں۔ آج کل پاکستان کے صدر آصف زرداری صاحب بھی اپنے خلاف کھڑے کئے گئے مقدمات سے بچاو کے لیے اسی قانونی و آئینی تصور کا سہارا لے رہے ہیں۔

کیا زرداری صاحب کو بطور صدر پاکستان ایسا کوئی استحقاق ہے کہ ان پر لگے کرپشن کے الزامات کی بنیاد پر ان کے خلاف کوئی مقدمہ نہیں چلایا جا سکتا؟ 

اس ضمن میں مختلف قانونی ماہرین کی مختلف آرا ہیں۔ مثال کے طور پر اعتزاز احسن، ایس ایم ظفر اور بابر اعوان صاحب کا خیال ہے کہ زرداری صاحب کو صدارتی استحقاق حاصل ہے اور جب تک وہ صدر پاکستان ہیں ان پر کوئی مقدمہ نہیں چلایا جا سکتا۔  

ان معزز وکلا کے برعکس بہت سے دیگر نامور وکلا جن میں شیخ اکرم اور قاضی انور صاحب نومنتخب صدر پاکستان سپریم کورٹ بار جیسے وکلا شامل ہیں کا خیال ہے کہ زرداری صاحب کو کوئی ایسا استحقاق حاصل نہیں ہے اور اگر ان کے خلاف کرپشن کے الزامات ہیں تو ان پر نہ صرف یہ کہ مقدمہ چلایا جا سکتا ہے بلکہ مقدمہ چلنا چاہیے۔

اس ضمن میں ہماری رائے یہ ہے کہ اگر صدر امریکہ بل کلنٹن صاحب کو بطو صدر ان کے خلاف لگنے والے الزامات کی وجہہ سے ان کو جواب طلبی کے لیے عدالتی کمیٹی کے سامنے پیش ہونے پر مجبور کیا جاسکتا ہو تو زرداری صاحب پر بطور صدر کیوں مقدمہ نہیں چلایا جا سکتا اور کیوں ان کے خلاف تحقیقات نہیں کی جا سکتیں؟

صدر کلنٹن کے خلاف مقدمہ تو اب ماضی کی بات ہے لیکن ابھی زمانہ حال میں اٹلی کے وزیر اعظم کے خلاف لگنے والے کرپشن کے الزامات

کی نہ صرف تحقیق کی گئی ہے بلکہ ان کے خلاف باقاعدہ عدالت میں مقدمہ چلایا جا رہا ہے۔ اور وہ اس مقدمے میں اپنے وکلا کے ذریعے خود کا دفاع کر رہے ہیں۔ اور یہ بات یقینی ہے کہ اگر مقدمے میں فیصلہ ان کے خلاف آیا تو نہ صرف انہیں وزارت عظمی سے ہاتھ دھونے پڑیں گے بلکہ  انہیں ایوان وزارت عظمی سے سیدھا جیل بھی جانا پڑے گا۔

یہ پاکستان کی بطور ملک اور پیپلز پارٹی کی بطور پارٹی بدقسمتی تھی کہ زرداری صاحب نے پاکستان کی صدارت کا عہدہ سنبھالا۔ اگرزرداری صاحب عہدہ صدارت سے دور رہتے تو آج پیپلز پارٹی اور پاکستان کی حالت قدرے بہتر ہوتی۔ گزشتہ دو دہائیوں سے زرداری صاحب کے بارے میں قومی اور بین الاقوامی میڈیے میں جس طرح کی خبریں اور رپورٹیں اور بیانات شائع ہو رہے تھے ان کے پیش نظر ضروری تھا کہ زداری صاحب صدارت کا منصب نہ سنبھالتے۔ اور پارٹی کے کسی سینیر عہدے دار کو بطور صدر ملک کا سربراہ بننے کا موقع فراہم کرتے۔ لیکن اقتدار کی چمک اکثر انسان کی سوچوں پر ہاوی ہو جاتی ہے اور انسان ایسے میں غلط فیصلے کرنے لگتا ہے۔ غالبا زرداری صاحب کے ساتھ بھی یہی ہوا۔ دوسرے ان کے پارٹی کی لیڈرشپ نے بھی انہیں اس بات پر اکسایا کہ وہ خود صدارت کا عہدہ سنبھالیں تاکہ پارٹی کو لغاری صاحب جیسے تجربے سے دوبارہ نہ گزرنا پڑے۔

بہرحال اب یہ ایک زمینی حقیقت ہے کہ زرداری صاحب صدر  پاکستان ہیں اور یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ زرداری صاحب کو صدارت کے انتخابی حلقے نے بہت بڑی تعداد  سے  ووٹوں کے ساتھ منتخب کیا تھا۔ 

اندریں حالات زرداری صاحب کے خلاف مقدمات چلانے کا مسئلہ واقعتا بہت پیچیدہ ہے جس پر پاکستان کے آئینی اور قانونی حلقوں کو خاصی محنت اور دقت طلبی سے مقدمات سے وابستہ قانونی پیچیدگیوں کا جائزہ لینا ہو گا۔

اس ضمن میں خاص طور پر موجودہ نظام کو درپیش خطرات کا زکر بھی کیا جارہا ہے۔  

تاہم ان قانونی موشگافیوں اور پیچیدگیوں کے باوجود ہم  یہ سمجھتے ہیں کہ اگر زرداری صاحب کے خلاف ان کے دور صدارت میں مقدمات چلاے جاتے ہیں اور وہ بغیر استعفی پیش کئے ان مقدمات کا سامنا کرتے ہیں تو اس سے پاکستان میں ایک بہتر روایت جنم لے گی اور پاکستان کے آئینی و قانونی نظام پر اس کے بہتر اثرات مرتب ہوں گے۔  

ہمارے خیال میں اس سارے مسئلے میں جس چیز کا خیال رکھا جانا چاہیے وہ زرداری صاحب کا صدارتی استحقاق نہیں بلکہ ان کے انسانی حقوق ہیں جن کی ضمانت انہیں آئین پاکستان فراہم کرتا ہے۔ زرداری صاحب کے مقدمات کے حوالے سے آئین اور قانون ان کے ساتھ جو سلوک کرے سو کرے لیکن اگر ان سارے معاملات میں ان کے انسانی حقوق کی پاسداری کی جاتی ہے تو ہم یہ سمجھتے ہیں کہ اس کے بھی پاکستانی معاشرے پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔  چناچہ اس سارے مسئلے میں اصل چیز زرداری صاحب کا صدارتی استحقاق نہیں بلکہ ان کے انسانی حقوق ہیں۔

اس لیے جو لوگ زرداری صاحب کا دفاع صدارتی استحقاق کے زریعے کرنے کا پرچار کررہے ہیں  وہ دراصل پاکستان کے پہلے سے کمزور  قانون کو کمزورتر بنانے کے پرانے پاکستانی فارمولے پر عمل پیرا ہیں جبکہ ان کے انسانی حقوق کے دفاع کی بات کرکے نہ صرف پاکستان کے قانون کی عمل داری کو بہتر بنا یا جا سکتا ہے بلکہ انسانی حقوق کی آئینی شکوں کو نئی طاقت اور قوت فراہم کی جا سکتی ہے۔ جو کہ اس وقت پاکستان کے عوام کی بنیادی آئینی اور قانونی ضرورت ہے۔     

  

Pakistan Weekly - All Rights Reserved

Site Developed and Hosted By Copyworld Inc.