Tuesday September 06, 2016

 

 CONTENTS

 Home

 News

 Editorial

 Opinion

 Fauji's Diaries

 Story

 Letters

 Community/Culture

 PW Policy

Ashraf's Articles-1

Ashraf's Articles-2

Ashraf's Urdu Poem

About Us

 
 
 

The Life of Jinnah

 

 

حکومتی کارکردگی کیسے بہتر کی جائے؟

کے اشرف

 

پاکستان میں حکومتی کارکردگی ہمیشہ خطرناک حد تک نہ ہونے کے برابر رہی ہے۔

 

اس ضمن میں پاکستان کی بیشتر حکومتیں، حکومتوں کے اہل کار، وزراے اکرام اور حکومتی سربراہ طرح طرح کے حیلے بہانے تراشتے رہتے ہیں تا کہ کسی نہ کسی طرح عوام کو مطمعن رکھیں۔

 

عوامی مسایل کی نوعیت چیونکہ عملی اور مادی قسم کی ہوتی ہیں اس لیے ان سب حکومتی کارندوں کی وضاختیں ناکافی ثابت ہوتی ہیں جس کے نتیجے میں ایک طرف عوامی مسایل زیادہ پیچیدہ ہوتے چلے جاتے ہیں بلکہ عوام کے غم و غصے میں اضافہ ہوتا چلا جاتا ہے جس سے حکومتوں کا استحکام خطرے میں پڑھ جاتا ہے۔

 

کیا اس صورت حال سے بچا جا سکتا ہے؟ کیا حکومتی کارکردگی کو بہتر بنایا جا سکتا ہے؟

 

بالکل۔ نہ صرف اس صورت حال سے بچا جا سکتا ہے بلکہ حکومتی کارکردگی کو بہتر بنایا جا سکتا ہے اور عوامی مسایل کو حل کرنے کے علاوہ پاکستان کو ترقی کے راستے پر ڈالا جا سکتا ہے۔

 

اس ضمن میں اہم ترین قدم حکومت اور عوام کے درمیان اس رابطے کومستقل بنیادوں پر موثر اور متحرک کرنے کی ہے جس کے ذریعے براہ راست ایک طرف عوامی مسایل حکومتی ایجنڈے پرآ جایں دوسری طرف ان مسایل کے حل میں کی جانے والی حکومتی کوششیں عوام کو مسلسل نظر آتی رہیں اورحکومت اور عوام دونوں کو اندازہ ہوتا رہے کہ کونسے مسئلے پر کتنی پراگرس ہورہی ہے۔

 

اس پراسس کو عملی شکل دینے کے لیے ہماری یہ تجویز ہے کے حکومتی سربراہ کے طور پر وزیر اعظم ہر ہفتے کسی ایک دن پارلیمنٹ میں اور اگر پارلیمنٹ کا اجلاس نہ ہو رہا ہو تو میڈیے کے سامنے اپنی ہفتہ بھر کی کارکردگی کی رپورٹ پیش کیا کریں۔ رپورٹ میں سب سے پہلے پاکستان کے اہم ایشوز کی نشاندہی کریں اس کے بعد ان ایشوز پر کئے جانے والے حکومتی اقدامات کا جائزہ پیش کریں اور بعد میں اگر وہ رپورٹ پارلیمنٹ میں پیش کر رہے ہوں تو ان ایشوز پر پارلیمنٹیرینز کے سوالوں کے جواب دیں اور اگر رپورٹ میڈیے کے سامنے پیش کر رہے ہوں تو ان ایشوز پر میڈیے کے سوالوں کے جواب دیں۔

 

وزیر اعظم کی رپورٹ پر وہ ایشوز اس وقت تک موجود رہنے چاہیں جب تک وہ حل نہ ہو جایں تا کہ عوام کو ان پر حکومتی اقدامات اور ان اقدامات کے نتیجے میں ہونے والی پراگرس کا پتہ چلتا رہے۔

 

اگر ہو سکے تو صوبوں میں وزراے اعلی کو وزیر اعظم کے اس عمل کی پیروی کرنی چاہیے۔

 

پراگرس کا بنیادی فلسفہ، نقطہ یا طریقہءکار یہ کہ موجودہ صورت حال

کو دیکھا جاے پھر اس میں تبدیلی لانے کے لیے اقدامات کئے جایں پھر ان اقدامات کے نتیجے میں ہونے والی ترقی یا تنزلی کا جائزہ لیا جاے اور پھرترقی کی رفتار کو قائم رکھنے کےلیے مزید اقدام کئے جایں۔

 

پاکستان کے ہر وزیر اعظم ، اور اگر ہو سکے تو وزراے اعلی کو، اور پھر ہو سکے تو تمام اداروں کے سربراہوں کو اس اصول کو عملا اپنی ذمہ داری کا حصہ بنانا چاہیے۔

 

اگر وزیر اعظم پاکستان آج سے اس عمل کو اپنے جاب کا مستقل حصہ بنا

لیں تو نہ صرف یہ کہ پاکستان کے مسایل حل ہونا شروع ہو جایں گے بلکہ ان کی شناخت سیاست دان سے بڑھ کر اسٹیٹس مین میں تبدیل ہو جائے گی اور انہیں پاکستان میں ایک اچھے وزیر اعظم اور سیاست دان کے طور پر یاد رکھا جاے گا۔    

 

  

Pakistan Weekly - All Rights Reserved

Site Developed and Hosted By Copyworld Inc.