Tuesday September 06, 2016

 

 CONTENTS

 Home

 News

 Editorial

 Opinion

 Fauji's Diaries

 Story

 Letters

 Community/Culture

 PW Policy

Ashraf's Articles-1

Ashraf's Articles-2

Ashraf's Urdu Poem

About Us

 
 
 

The Life of Jinnah

 

 

این آر او سے مشرف کے اقتدار

کو ایک سال طوالت ملی

کے اشرف

 

پیپلز پارٹی کی لیڈرشپ کا خیال ہے کہ پاکستان میں جمہوریت این آر او کی وجہہ سے بحال ہوئی۔

 

اپنے اس استدلال کو وہ اکثر اپنے مخالفین کو یہ جتانے کے لیے استعمال کرتے ہیں کہ اگر آج وہ پارلیمنٹ میں بیٹھے ہیں یا پاکستان میں اپنی سیاست چلا رہے ہیں تو اس کا سارا کریڈٹ بے نظیر بھٹو صاحبہ کی سیاسی بصیرت کو جاتا ہے کیونکہ اگر وہ مشرف کے ساتھ ملاقات کرکے این آراو نہ کرواتیں تو نہ ملک میں جمہوریت بحال ہوتی، نہ آزادانہ الیکشن ہوتے اور نہ یہ سیاسی سرگرمیاں نظر آتیں جن کا آغاز بے نظیر صاحبہ کے مشرف کے ساتھ معاہدےکے نتیجے میں ہوا۔

 

یہ ایک ایسا سیاسی مغالطہ ہے جس کی وجہہ سے نہ صرف یہ کہ پیپلز پارٹی کی لیڈرشپ کی اپنی سیاسی سوچ میں بہت بڑی کجی پیدا ہو رہی ہے بلکہ اس استدلال کی بنا پر وہ اپنے مخالفین  کو بھی موقع فراہم کررہے ہیں کہ وہ مزید شد ت کے ساتھ پی پی پی کی مخالفت کریں۔ کیونکہ مخالفیں جانتے ہیں کہ پیپلزپارٹی کے اس دعوے میں کوئی صداقت نہیں۔

 

اصل حقیقت بھی یہی ہے کہ بے نظیر بھٹو صاحبہ کی جنرل مشرف کے ساتھ ملاقات اور بات چیت ایک بہت بڑی سیاسی غلطی تھی جس کے نتیجے میں نہ صرف بی بی کی ہلاکت واقع ہوئی بلکہ پاکستان آج تک جس سیاسی درد زہ میں سے گزر رہا ہے اور سیاسی تبدیلی کا جنم ممکن نہیں ہو پا رہا وہ بی بی اور مشرف ملاقات اور دونوں کے باہمی معاہدے  اور این آر او کا نتیجہ ہے۔

 

حقیقت یہ ہے کہ اگر بی بی اورمشرف کی ملاقات نہ ہوتی ، نہ دونوں میں کوئی معاہدہ ہوتا اور نہ ایں آر او ہوتا تو آج پاکستان مين نہ صرف

صاف ستھری جمہوریت قائم ہو چکی ہوتی بلکہ ملک کو ان سب بحرانوں میں سے نہ کزرنا پڑتا جن میں سے وہ ابھی تک گزر رہا ہے۔

 

آین آر او نے پاکستان کے لیے جو مسایل پیدا کئے ہیں اور جو آگے کرنے جا رہا ہے وہ تو ہیں ہی لیکن این آر او کی وجہہ سے جنرل مشرف کے اقتدار کو تقریبا ایک سال طوالت ملی۔ اگر بی بی جنرل مشرف کے ساتھ  معاہدہ نہ کرتی تو جنرل مشرف کا اقتدار 2007 کا سورج غروب ہونے سے بہت پہلے غروب ہو جاتا۔

 

عملا صورت حال یہ تھی 2007 کے وسط تک جنرل مشرف کے اقتدارکی نہ صرف تمام چولیں ہل چکی تھیں بلکہ کے ان کے اقتدار میں رہنے کے تمام جواز ختم ہو چکے تھے۔ 2007 میں دوسرا صدارتی انتخاب مشرف صاحب کی آخری سیاسی مہم تھی جس کے نتیجے میں ان کے اقتدار کا ٹائٹینک ہمیشہ کے لیے ڈوبا چاہتا تھا کہ بی بی  نےعین وقت پر

معاہدے کے عین مطابق مشرف صاحب کے انتخابی حلقے کا حصہ بن کر ان کے اقتدار کے جہاز کو مزیر ایک سال تک تیرنے میں مد د دی۔

 

پیپلز پارٹی کے اسمبلی ممبران نے،  بی بی کے مشرف کے ساتھ معاہدےکے مطابق،  ایک طرف مشرف کو ووٹ نہ دے کر قوم کو گمراہ  کن تاثر دیا کہ وہ مشرف کی حمایت نہیں کررہے، تو دوسری طرف بی بی نے نواز شریف صاحب کو الیکشن میں حصہ لینے پر آمادہ کرکے مشرف کے الیکشن کواخلاقی و سیاسی جواز فراہم کیا۔

 

ایک صاحب جو کہ اس وفد کا حصہ تھے جو بی بی کونواز شریف صاحب کے ساتھ آخری بار سمجھانے گیا تھا کہ پی پی پی  الیکشن میں حصہ نہ لے، لیکن نواز شریف صاحب خود اپنا موقف تبدیل کرکے آئے تھیے، ہیمں بتا رہے تھے کہ نواز شریف صاحب بی بی کو کہتے رہے کہ ان کی پارٹی الیکشن کا بائکاٹ کرے لیکن بی بی میز پر پڑا خشک پھل کھاتی رہی اور یہی کہتی رہی کہ ہمیں مشرف کے لیے میدان خالی نہیں  چھوڑنا چاہیے۔

 

حالانکہ بی بی اچھی طرح جانتی تھی اور مشرف صاحب کے ساتھ معاہدہ کر چکی تھی کہ الیکشن کے بعد وہ وزیر اعظم بنے گی اور مشرف صاحب مزید پانچ سال تک صدر رہیں گے۔ اس حوالے سے بی بی نے نواز شریف کو بھی دھوکہ دے کرایک ایسے گناہ بے لذت کا حصہ بنایا جس کی سزا ابھی تک پورا پاکستان بھگت رہا ہے اور پاکستان کی مشکلات میں کمی نہیں آنے پا رہی۔ 

 

اقتدار سے فارغ ہونے کے بعد مشرف صاحب نے بھی کئی بار یہ بیان دیا ہے کہ اگربی بی زندہ ہوتی تو وہ اب بھی صدر پاکستان ہوتے جبکہ بی بی وزیراعظم ہوتی۔

 

 این آر او کے حوالے سے اصل کہانی یہی ہے کہ جنرل مشرف کے ساتھ خفیہ ملاقاتیں اور معاہدہ کرکے بی بی نے نہ صرف یہ کہ اپنی جان گنوائی اور جنرل مشرف کے اقتدار کو مزید ایک سال تک طوالت دی بلکہ پاکستان کے لیے اپنی سیاسی حماقت اور جلد بازی سے ایسے بحران  کھڑے کر گیں جن سے نکلتے ہوے ابھی پاکستان کو بہت سی مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔    

  

Pakistan Weekly - All Rights Reserved

Site Developed and Hosted By Copyworld Inc.