Tuesday September 06, 2016

 

 CONTENTS

 Home

 News

 Editorial

 Opinion

 Fauji's Diaries

 Story

 Letters

 Community/Culture

 PW Policy

Ashraf's Articles-1

Ashraf's Articles-2

Ashraf's Urdu Poem

About Us

 
 
 

The Life of Jinnah

 

 

پیپلز پارٹی کا مسئلہ کیا ہے؟

کے اشرف

 

جب سے بی بی نے جنرل مشرف سے اندر کھاتے رابطے قائم کرکے اپنے لیے سیاسی رعاتیں لینے کا عمل شروع کیا پیپلز پارٹی کے بنیادی اصول کمپرومائزہونا شروع ہوگیے۔

یہ سلسلہ اب تک جاری ہے۔ اور کسی طور رکنےمیں نہیں آ رہا ہے ۔ پارٹی ہر مسئلے پر دو قدم پیچھے ہٹتے ہٹتے دیوار سے جا لگی ہے لیکن نہ یہ اپنا بوجھ اتارنے کے لیے تیار ہے اور نہ مکمل طور پر مسقبل بینی کے عمل پر توجہہ دینا چاہتی ہے۔

زرداری صاحب نے جو غیر اخلاقی فنانشیل ڈیلیں کی تھیں وہ ایک طرف لیکن ان کے ساتھ جو اتنے بڑے بڑے لوٹ مار کرنے والے کارندے سرگرم عمل ہیں اور ان کے ماضی اور حال کے کارناموں کا سارا بوجھ پیپلز پارٹی پر پڑ رہا ہےلیکن اس کے باوجود آخر زرداری صاحب ان سے جان کیوں نہیں چھڑاتے؟

یہی کارندے دراصل پیپلز پارٹی کا سب سے بڑا مسئلہ ہیں جو 18 فروری کے بعد سیاسی سفر پر روانہ ہونے والے پیپلز پارٹی کے شپ میں مسلسل پتھر بھی بھر رہے ہیں اور ساتھ ساتھ اس شپ میں سوراخ بھی کرتے جارہے ہیں۔ یہ کارندے اگر اسی طرح مصروف عمل رہے تو انشااللہ نہ صرف جلد ہی پیپلزپارٹی اقتدار سے باہر ہوگی بلکہ شاید ملک سے جمہوریت کا بوریا بستر بھی لپیٹ دیا جاے گا ۔

یہ پیپلز پارٹی کا شپ ڈبونے والے کارندے کہاں سے آے ہیں؟ ان کا پیپلز پارٹی سے کیا تعلق ہے؟ یہ پارٹی کے بنیادی سیاسی فلسفے کا کہاں تک شعور رکھتے ہیں اور کہاں تک اس پر عمل پیرا ہونے کی سکت رکھتے ہیں؟

کیا پیپلز پارٹی واقعتأ ایک سیاسی پارٹی ہے بھی یا محض چند مفاد پرستوں کا ٹولہ ہے جوذوالفقار علی بھٹوکی سیاسی  وراثت پر زرداری صاحب کی قیادت میں اکٹھے ہوکر ہر صورت اپنی گزشتہ لوٹ مار کو تحفظ دینا چاہتے اور آئیندہ کی لوٹ مار کے مواقع سے فایدہ اٹھانا چاہتے ہیں؟

اگر پیپلز پارٹی کے پلیٹ فارم سے متحرک افراد کی حرکات وسکنات کا جائزہ لیا جائے تو یہ بات زیادہ قرین قیاس نظر آتی ہے کے ان لوگوں کا پیپلز پارٹی کی بنیادی سیاسی فلسفے سے کوئی تعلق نہیں۔ نہ یہ روٹی، کپڑے اورمکان کے سیاسی سلوگن پر یعقین رکھتے ہیں ، نہ نیم  سرکاری و نیم پرائیوٹ معیشت کی پالیسی کو مانتے ہیں اور نہ  سامراج مخالف آئیڈیالوجی کو راہنما اصول کے طور پر قبول کرتے ہیں۔

دیکھا جاے تو پیپلزپارٹی کا سب سے بڑا المیہ اور سب سے بڑا مسئلہ پیپلزپارٹی کے یہی بزرجمہر ہیں جو رفتہ رفتہ پیپلز پارٹی کی قیادت پر قابض ہو چکے ہیں اور اب پیپلز پارٹی کے پلیٹ فارم سے ایسی عوام دشمن پالیسیوں پر عمل پیرا ہیں جو کسی حوالے سے پیپلز پارٹی کے بنیادی سیاسی فلسفے سے مطابقت نہیں رکھتیں۔

کیا پیپلز پارٹی ان بزرجمہروں کے ہوتے ہوے بطور سیاسی پارٹی زندہ رہ سکے گی؟

اس بات کے امکانات بہت کم ہیں کہ پیپلز پارٹی موجودہ قبضہ گروپ کے ہوتے ہوے زیادہ عرصہ تک بطورسیاسی پارٹی فنکشن کر سکے گی۔ اس کی عوام دشمن پالیسیوں کی وجہہ سے پارٹی کی عوامی تائید وحمایت میں زبردست کمی واقع ہوچکی ہے۔

پنجاب سے پہلے ہی پارٹی کا صفایا ہوچکا ہے۔ سندھ میں بھی بڑی حد تک پارٹی کا اثرو رسوخ کم ہوتا جارہا ہے۔ اس اثرو رسوخ میں کمی کا ایک بہت بڑا سبب زرداری صاحب کا اپنی منفی تصور بھی ہے۔ سندھی بڑی حد تک محسوس کرتے ہیں کہ زرداری صاحب نے نہ صرف بی بی کے قاتلوں کے ساتھ سمجھوتہ کرلیاہے بلکہ وہ بی بی کے نام پر ایسے کام کررہے ہیں اور ایسے لوگوں کا آلہ کار بن گئے ہیں جو کبھی بھی بی بی کے قریب نہیں تھے۔

زرداری صاحب کبوتر کی طرح آنکھیں بند کیے پارٹی اور حکومتی معاملات کو چلانے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن پاکستان اور پاکستانی جن مسائل سے دوچار ہیں یہ رد عمل کی بجاے خالص عمل پر مبنی پالیسیوں کے متقاضی ہیں۔

اگر گزشتہ دو سال کی پارٹی کی پالیسیوں پر نظر ڈالی جاے یا زرداری صاحب کی ڈیڑھ سال کی صدارت کے ساتھ پارٹی کی پرفارمینس کا جائزہ لیا جاے تو یہ بات واضع ہوجاتی ہےکہ پیپلز پارٹی نے تا حال رد عمل کی پالیسیاں اپنا رکھی ہیں اور کسی مسئلے پر انہوں نے کسی عملی پالیسی پر عمل نہیں کیا۔ اس بات کا آئندہ بھی امکان کم ہے کہ پارٹی کسی بھی عوامی مسئلے پر خالص عملی پالیسیاں اپناے گی ۔

جو حکومتیں رد عمل کی پالیسیوں پر کارفرما ہوں ان سے کسی قسم کی قیادت کی توقع کرنا خام خیالی کے سوا کچھ نہیں اور پاکستان کے عوام بڑی تیزی کے ساتھ پیپلز پارٹی کے بارے ميں اس حقیقت سے آگاہ ہوتے جا رہے۔

دیکھیے موجودہ قبضہ گروپ کے ساتھ پیپلز پارٹی کب تک اقتدار کے مزے لوٹنے میں کامیا ب رہتی ہے؟    

   

  

Pakistan Weekly - All Rights Reserved

Site Developed and Hosted By Copyworld Inc.