Tuesday September 06, 2016

 

 CONTENTS

 Home

 News

 Editorial

 Opinion

 Fauji's Diaries

 Story

 Letters

 Community/Culture

 PW Policy

Ashraf's Articles-1

Ashraf's Articles-2

Ashraf's Urdu Poem

About Us

 
 
 

The Life of Jinnah

 

سپریم کورٹ این آر او زد گان کوسرکاری و سیاسی  منظر سے ہٹاے

کے اشرف

این آر او کی تفصیلی فہرست جاری ہونے کے بعد توقع تھی کہ این آر او زدگان اپنے عہدوں سے ہٹ جایں گے اور عدالتوں سے بریت ہونے تک سیاسی و سرکاری منظر پر دکھائی نہیں دیں گے لیکن چیونکہ پاکستان میں یہ انہونی بات ہوتی اس لیے سارے این آر او زدگان نہ صرف سرکاری عہدوں پر انتہای ڈھٹای کے ساتھ اسی طرح براجمان ہیں بلکہ سیاسی منظر پر بھی اسی ٹھاٹ بھاٹ سے بیان بازی اور سیاسی سرگرمیوں میں مصروف ہیں۔  جو این آر او زدگان سرکاری عہدوں پر فایز ہیں ان کی سرکاری مصروفیات اسی طرح جاری ہیں، احکامات دے رہے ہیں، لے رہے ہیں ، میٹنگیں کر رہے ہیں اور سرکاری خرچ پر ملکی اور بیں الاقوامی دورے کر رہے ہیں۔ ان پر کسی قسم کی کوئی قدغن نہیں۔ حکومت کی طرف سے ان کے لیے واضع پیغام ہے کہ  چاہیں تو اپنی موجودہ پوزیشنوں سے فایدہ اٹھا کر اپنے آپ کو این آر او کے اثرات سے بچانے کے لیے کچھ کرسکتے ہوں تو کر لیں۔

دوسری طرف سیاسی منظر نامہ یوں ہے کہ جن پر قتل وغارت کے مقدمات ہیں ان کی سیاسی دوکانیں جوں کی توں چل رہیں ہیں۔ نہ کوی روک ہے نہ ٹوک۔ وہ پوری شان و شوکت کے ساتھ اسی طرح تقریریں کر رہے ہیں۔ میڈیا عوام کے زخموں پر نمک پاشی کے لیے قتل وغارت کے ملزمان کو یوں ہی بطور لیڈر و قاید عوام کے سروں پر مسلط رکھنے کے لیے پوری توانائی کے ساتھ سرگرم ہے۔ نہ ان قتل وغارت کے ملزمین کو شرم آتی ہے کہ وہ سیاسی منظر سے از راہ اخلاق اس وقت تک ہٹ جایں جب تک ان پر قتل و غارت کے لگے الزامات عدالتوں سے کلیر نہیں ہوتے اور نہ میڈیے والوں کو شرم آتی ہے کہ ان کی لیڈری و قیادت کی ترویج و اشاعت سے عوام کے زخموں پر مزید نمک پاشی سے احتراز کریں۔

یہ مناظر دیکھ کر عام آدمی کبھی سر پیٹتا ہے اور کبھی خدا کے سامنے آہ زاری کرتا ہے کہ خدایا ہم نے کونسے جرم کیے تھے جن کی سزا کے طور پر تو نے ایسے مجرمانہ کردار اس طرح ہم پر مسلط کررکھے ہیں کہ ہمارے لیے نہ جاے رفتن ہے نہ پاے ماندن۔ کریں تو کیا کریں جایں تو کہاں جایں؟

عوام اس پریشاں حالی میں کبھی آسمان کی طرف دیکھتی ہے اور کبھی ملک کے مختلف اداروں کی طرف۔ لیکن کوئی نہیں جو عوام کو ان پریشانیوں سے نجات دلاے جن میں ان مجرمانہ کردار کے حامل لیڈران نےانہیں گرفتار کر رکھا ہے۔

کوئی مجرم دوسرے سے فون پر رابطہ کرکے اس سے اپنے جرائم کی داستان کی تکمیل کے لیے مدد کا خواہاں ہے اور کوئی لندن جا کرقانوں کی دسترس سے باہر بیٹھے دوسرے مجرم سے درخواست کرتا ہے کہ پاکستان میں اپنے جرائم کے نیٹ ورک کے کارندوں کو تھوڑی لگام دے تا کہ این آر او کی فہرست جاری ہونے کے بعد جرائم کو تحفظ فراہم کرنے والا نظام منہدم نہ ہونے پاے۔

کیا پاکستان اور پاکستانیوں کے لیے اس دایرہ در دایرہ پھیلے جرائم کے سلسے سے نجات پانا ممکن ہے؟ کیا کوئی فرد یا کوئی ادارہ انہیں ان طاقت ور مجرموں سے نجات دلا سکتا ہے؟ کیا کوئی قوت پاکستان کے عوام کو اس ذہنی کوفت سے نجات دلا سکتی ہے جو ان جرائم پیشہ لوگوں کے سرکاری و سیاسی منظر پر مسلسل چھاے رہنے کی وجہہ سے ان کو کھاے جا تی ہے؟

صورت حال یوں ہے کہ غیر نمائندہ نظام نے گزشتہ چھ دہایوں میں صحیح سیاسی قیادت سامنے آنے کے تمام راستے بند کررکھے تھے۔ آمروں نے چن چن کر مجرمانہ کردار کے حامل افراد کو اس طرح سیاست میں داخل کیا کہ ایک طرف وہ صحیح اور صاف ستھری با اصول سیاسی قیادت کو سیاست سے باہر رکھیں اور دوسری طرف ان نقادوں کو کیفرکردار تک پنچایں جو ان کی آمریت کو چیلنج کریں۔

اس کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ آج پاکستانی سیاست جرائم پیشہ عناصر کی جولانگاہ بن کر رہ گی ہے۔ سارے منظر پر دور دور تک مصلحت پسند، لالچی، کم نظر، جرائم پیشہ لوگ مسلط ہیں۔ جن کے پاس نہ ماڈرن پاکستان کے لیےکوئی ویژن ہے نہ موجودہ دنیا کے چیلنجز سے نبرد آزما ہونے کی صلاحیت۔ اگر ہے تو صدر بننے کے بعد بھی زمین کی ملکیت بڑھانے کی ہوس یا لندن میں بیٹھ کرچھینکنے کے لیے بھی ٹی وی چینلز کی خواہش اور ضرورت تا کہ دنیا کے کسی بھی کونے میں موجود سابق و حال پاکستانی جان لیں کہ آج قاید تحریک نے چھینکا ہے۔

اس دایرہ در دایرہ سیاست و جرائم کے پھیلے نیٹ ورک کو صاف کرنے کے لیے جس سرجیکل آپریشن کی ضرورت ہے وہ تو شاید پاکستان میں کبھی ممکن  نہ ہو لیکن سپریم کورٹ جیسےادارے اگر اس نیک کام کی ابتدا ان این آر او زدگان کو وقتی طور پر ان کے سرکاری عہدوں سے الگ ہونے اورملزمین سیاستدانوں کو ان کے سیاسی کردار سے روک کر ایک اچھے کام کا آغاز کرسکتے ہیں۔ پہلے سپریم کورٹ این آر او زدگان کو ان کے سرکاری عہدوں س معطل کرنے کا حکم جاری کرے۔ ان سیاست دانوں کو سیاسی سرگرمیوں سے روکے جن کے خلاف جرائم کے الزامات ہیں۔ سپریم کورٹ میڈیے کو پابند کرے کہ جرائم کے ملزمین لیڈران اور قاید ین کی ترویج و اشاعت بند کرے۔ سپریم کورٹ حکومت سے ان لوگوں کی فہرست حاصل  کرے جنہوں نے کروڑوں اور اربوں کے قرضے لے کر معاف کروا رکھے ہیں۔ ان کے معافی نامے کینسل کرے اور انہیں ہدایات جاری کرے کہ وہ قرضوں کی واپسی کا اہتما م کریں۔  اور اگر وہ قرض واپس ادا کرنے پر آمادہ نہ ہوں تو ان کے خلاف قانونی چارہ جوی کا سلسلہ شروع کرے۔ اسی طرح سپریم کورٹ  الیکشن کمشن کو ہدایات جاری کرے کہ جرائم اور قرضوں میں ملوث کرداروں کی رکنیتیں ختم کرے اور آیندہ کے لیے لازم بناے کہ ایسے افراد الیکشن میں حصہ نہ لے سکیں جن کے خلاف اس طرح کے مقدمات ہوں۔

اگر سپریم کورٹ اپنے طور پر  اس طرح کہ اقدامات اٹھاے تو توقع کی جا سکتی ہے کہ پاکستان میں ایک طرف بہتر گورننس اور دوسری طرف صاف شفاف اور با اصول سیاست کا آغاز ہو سکتا ہے جس سے ایسی قیادت سامنے آ سکتی ہے جو پاکستان کوحقیقی معنوں میں ایک صحت مند اورباوقار ملک بنانے میں اہم کردار ادا کرسکتی ہے۔

پاکستان کے عوام جنہوں نے عدلیہ کی آزادی کے لیے  بے پناہ قربانیاں دی ہیں وہ آزاد عدلیہ کے آزاد ججوں سے یہ  توقع رکھنے میں حق بجانب  ہیں کہ آزاد عدلیہ این آر او زدہ مجرمانہ کردار کے حامل افراد کو سرکاری وسیاسی  منظر سے ہٹا کر موجودہ نظام کو شفاف، موثر اور متحرک بنانے میں اپنا کردار ادا کرے۔

  

Pakistan Weekly - All Rights Reserved

Site Developed and Hosted By Copyworld Inc.