Tuesday September 06, 2016

 

 CONTENTS

 Home

 News

 Editorial

 Opinion

 Fauji's Diaries

 Story

 Letters

 Community/Culture

 PW Policy

Ashraf's Articles-1

Ashraf's Articles-2

Ashraf's Urdu Poem

About Us

 
 
 
 

The Life of Jinnah

 

 

يوں ہی چلتی رہو

کے اشرف

 

ميں نے کھڑکی کے

شیشے سے باہر

تمیں جاتے ہوے دیکھا

 

آسمانی رنگ کے

پیراہن میں ملبوس

 

لگتا تھاآسماں سے کوئی

نورانی مخلوق اترآئی ہو

ہم آشفتہ دلوں کے

بجتے چراغوں کو

جلانے کے لیے

ہم یاس زدوں کے گلشن میں

آس اور امید کے گلہاے تازہ

کھلانے کے لیے

 

میں نے کھڑکی کے

شیشے سے باہر

تمیں جاتے ہوے دیکھا

 

وہ راہرو جس پر

اٹھ رہے تھے تمہارے قدم

تختہ گل تھا

یا تھی ستاروں سے مزین

کہکشاں

 

رنگ اور نور

مل رہے تھے کچھ ایسے

تیرے پیکر میں

جیسے دورکہیں

باہم ہوں زمیں اور آسماں

 

اے آسمانی رنگ کے

پیراہن میں ملبوس

آسمانی پیکر

 

اس تختہ گل پر

یوں ہی چلتی رہو

شاید مندمل ہوں اس دل کے

وہ زخم

جو گزشتہ موسم گل میں

ملے تھے

 

جب ہم نے باہم استادہ

اسی کھڑکی کے شیشے پر

بارش کے پھسلتے ہوے

قطروں سے پرے

 

دیکھے تھے

آسماں سے ٹوٹ کر

دو گرتے ستارے

 

یوں ہی چلتی رہو

اس تختہ گل پر

اس ستاروں سے مزین

راہرو پر

یوں ہی چلتی رہو

 

برکلے، کیلیفورنیا

22 جنوری 2010

 

Pakistan Weekly - All Rights Reserved

Site Developed and Hosted By Copyworld Inc.