Tuesday September 06, 2016

 

 CONTENTS

 Home

 News

 Editorial

 Opinion

 Fauji's Diaries

 Story

 Letters

 Community/Culture

 PW Policy

Ashraf's Articles-1

Ashraf's Articles-2

Ashraf's Urdu Poem

About Us

 
 
 
 

The Life of Jinnah

 

 

جنگل می برستی بارش

کے اشرف

 

تاروں بھرے آسماں

اور نکھری رات میں

بارش میں بھیگتے جنگل

جیسی زلفیں لیے

چاندنی جیسے سفید بازو

پھیلاے

کون ہے جو

میری خواب گاہ میں

چلا آیا ہے

 

کوئی خیال ہے کہ حقیقت

کہہ نہیں سکتا

 

جوبھی ہے اتنا حسیں ہے

کہ ميں اس سے

لحظہ بھر نظریں

ہٹا نہں سکتا

چاہوں بھی تو ميں

ہوش میں آ نہیں سکتا

 

تاروں بھرے آسماں

اور نکھری رات میں

بارش میں بھیگتے جنگل

جیسی زلفیں لیے

چاندنی جیسے سفید بازو

پھیلاے

کون ہے جو

میری خواب گاہ میں

چلا آیا ہے

 

بس اتنی خبر ہے

کہ وہ پیکررنگ و نور

بارش میں بھیگتے جنگل

جیسی زلفیں لیے

چاندنی جیسے سفید بازو

پھیلاے

اس طرح آیا ہے کہ

اسے کے اٹھتے ہوے

قدموں سے

پیانو پر لہراتی کسی

دلبر کی مخروطی انگلیوں

کی طرح

موسیقی کا سیلاب

امڈا چلا آتا ہے

 

جوبھی ہے اتنا حسیں ہے

کہ ميں اس سے

لحظہ بھر نظریں

ہٹا نہں سکتا

چاہوں بھی تو ميں

ہوش میں آ نہیں سکتا

 

کوئی خیال ہے کہ حقیقت

کہہ نہیں سکتا

 

برکلے، کیلیفورنیا

17 جنوری 2010

   

Pakistan Weekly - All Rights Reserved

Site Developed and Hosted By Copyworld Inc.