Tuesday September 06, 2016

 

 CONTENTS

 Home

 News

 Editorial

 Opinion

 Fauji's Diaries

 Story

 Letters

 Community/Culture

 PW Policy

Ashraf's Articles-1

Ashraf's Articles-2

Ashraf's Urdu Poem

About Us

 
 
 
 

The Life of Jinnah

 

 

مور چھل

کے اشرف

 

میرے کمرے کی کھڑکی

کے باہر

ایک دس گیارہ سالہ بچہ

اپنے ہاتھوں میں

مورچھل تھامے

معصوم آنکھوں میں

چڑیوں کے

تتلیوں کے

خواب بساے

مجھ سے کہتا ہے

 

کبھی تم بھی

اس راہگزر سے

گزرے تھے

 

مجھ سے کہو

تب اس دیس کا

موسم کیسا تھا

 

کیا تب بھی چڑیاں

یونہی سہمی سہمی رہتی تھیں

کیا تب بھی

تتلیوں کے پریونہی

حبس سے جل اٹھتے تھے

کیا تب بھی

اس ندیا کا پانی یونہی

زہریلا تھا

کیا تب بھی

مردہ مچھلیاں

ندیا کے پانی میں یونہی

زندگی کی رمق سے

عاری بے حس

تیرتی دکھائی دیتی تھیں

 

میں ناامید آنکھوں سے

کھڑکی سے باہرکھڑے

بچے کی طرف

دیکھتا ہوں اور کہتا ہوں

 

اے عزیزمن

میں تم سے شرمندہ ہوں

میں تمہاری

چڑیوں اور تتلیوں کو

نہیں بچا سکا

 

تمہای ندیا کے پانی کو

زہر آلود ہونے سے

نہیں بچا سکا

 

تم اپنے مورچھل کی

حفاظت کرنا

 

تم اپنے مورچھل کی

حفاظت کرنا

 

شاید آج کے بعد

میں تمیں

کھڑکی کے پیچھے

کھڑا دکھائی نہ دوں

 

تم اپنے مورچھل کی

حفاظت کرنا

 

برکلے، کیلیفورنیا

9 جنوری 2010

 

Pakistan Weekly - All Rights Reserved

Site Developed and Hosted By Copyworld Inc.