Tuesday September 06, 2016

 

 CONTENTS

 Home

 News

 Editorial

 Opinion

 Fauji's Diaries

 Story

 Letters

 Community/Culture

 PW Policy

Ashraf's Articles-1

Ashraf's Articles-2

Ashraf's Urdu Poem

About Us

 
 
 
 

The Life of Jinnah

 

 

برگ زرد

کے اشرف

 

اپنے کمرے کی

مغربی کھڑکی کے باہر

روز غروب ہوتے

سورج کو دیکھتا ہوں

 

سورج کی آنکھ

بند ہوتے ہی

تاریکی

 بے آہٹ قدموں پر چلتی

میرے درو دیوار پہ

چھا جاتی ہے

 

دل میں جل اٹھتا ہے

غم کا چراغ

کسی ایسے عشق کی

یادوں کا چراغ

جو موسم خزاں کے

پہلے زرد پتے پر

لکھے نام کی طرح

ہواوں کے کندھے پہ سوار

اجنبی دنیا میں

ایسے گیا

کہ لوٹ کر نہیں آیا

 

میں اپنے کمرے کی

مغربی کھڑکی کے باہر

روز غروب ہوتے

سورج کو دیکھتا ہوں

 

شاید موسم خزاں کا

کا وہ زرد پتہ

جس پر لکھا تھا ایک نام

کسی شام

سورج کی آنکھ

بند ہونے سے پہلے

ہواوں کے کندھے پہ سوار

میری دنیا میں

لوٹ آئے

اور درد کے سارے چراغ

ستارے بن کر

آسمان پر جھلملانے لگیں

میں اپنے کمرے کی

مغربی کھڑکی ميں کھڑا

ان ستاروں سے

کہہ دوں

خزاں کے زرد پتے پر

لکھا وہ نام

جو ہرشام

جل اٹھتا ہے

میرے دل میں

درد کا چراغ بن کر

 

برکلے، کیلیفورنیا

14 دسمبر2009

 

Pakistan Weekly - All Rights Reserved

Site Developed and Hosted By Copyworld Inc.