Tuesday September 06, 2016

 

 CONTENTS

 Home

 News

 Editorial

 Opinion

 Fauji's Diaries

 Story

 Letters

 Community/Culture

 PW Policy

Ashraf's Articles-1

Ashraf's Articles-2

Ashraf's Urdu Poem

About Us

 
 
 
 

The Life of Jinnah

 

 

یہ جدوجہد تو سب کی تھی

کے اشرف

 

یہ جدوجہد توسب کی تھی

سب چاہتے تھے قانون آے

قانون آے،  آئین آے

انصاف کا ہو بول اور بالا

ڈکٹیٹر کا ہو منہ کالا

 

یہ جدوجہد تو سب کی تھی

 

ملک میں بھوتوں کا ڈیرہ تھا

ہم سےدور سویرا تھا

کچہ تیرا تھا نہ میرا تھا

 

اس جدوجہد میں خون بہا

اس جدوجہد میں لوگ مرے

سب چاہتے تھے تبدیلی آئے

 تبدیلی آئے اور یوں آئے

اس کالے بھیانک دورکی

ہر ایک علامت مٹ جائے

 

اس ایک تبدیلی کی خاطر

 

کئی جیل گئے کئی سر پھوٹے

کتنوں کا نام ونشاں نہ ملا

 

لوگوں کی قربانیوں سے

جب یہ کالی رات ڈھلی

 

تو ہم نے دیکھا

کہ یہاں کچھ نہیں بدلا

 

یہ دیس تو ویسے کا ویسا ہے

وہی پرانی ہیرا پھیری ہے

وہی دھندہ ہے وہی پیسہ ہے

 

ڈکٹیٹر بھی آزاد پھرے ہے

ساتھی بھی اس کے موج کرے ہیں

 

چند مسخرے ہیں جو رات اوردن

  تبدیلی چاہنے والوں سے

ہنس ہنس کر ٹھٹھول کرے ہیں

 

اور کالی بھیانک رات بھی

دل کھول کے ہم پر ہنستی ہے

 

یہ جدوجہد تو سب کی تھی

یہ جدوجہد  تو سب کی ہے

اس جدوجہد کو شاید ابھی

کچھ عرصہ جاری رہنا ہے

 

کچھ سر بھی ابھی پھوٹنے ہیں

کچھ خوں بھی ابھی بہنا ہے

 

 یہ جدوجہد تو سب کی ہے  

 

  

Pakistan Weekly - All Rights Reserved

Site Developed and Hosted By Copyworld Inc.