Tuesday September 06, 2016

 

 CONTENTS

 Home

 News

 Editorial

 Opinion

 Fauji's Diaries

 Story

 Letters

 Community/Culture

 PW Policy

Ashraf's Articles-1

Ashraf's Articles-2

Ashraf's Urdu Poem

About Us

 
 
 
 

The Life of Jinnah

 

 

صحرا اور سمندر

کے اشرف

 

حد نظر تک پھیلا

صحرا

اور صحرا پرلپکتے

 آسماں کی وسعتوں میں

چمکتا چاند

اورچاند کی

 روشنیوں میں

برہنہ تن

 نہاتی صحرا کی ریت

کوئی ہے

جو ایسے حسیں

منظر میں

از خود رفتہ نہ ہو

آتے جاتے زمانوں سے

ناوابستہ نہ ہو

 

حد نظر تک پھیلا

سمندر

سطح سمندر پر

ابھرتی اور بکھرتی

لہریں

لہروں کے عقب میں

آسماں کی نگرانی میں

سمندر میں

برہنہ تن نہاتا چاند

کوئی ہے

جو ایسے حسیں

منظرمیں

از خود رفتہ نہ ہو

آتے جاتے زمانوں سے

ناوابستہ نہ ہو

 

سچ تو یہ ہے

رات کے پچھلے پہر

خنک ہواوں کی

انگلی تھامے

شاعر کبھی صحرا کی

اور کبھی

ساحلِ سمندر کی

ریت پہ چلتا

از خود رفتہ

آتے جاتے زمانوں سے

ناوابستہ

دور بہت دور

نکل جاتا ہے

 

ازخود رفتہ

آتے جاتے زمانوں سے

نا وابستہ

 

برکلے، کیلیفورنیا

28 اکتوبر2009

 

  

Pakistan Weekly - All Rights Reserved

Site Developed and Hosted By Copyworld Inc.