Tuesday September 06, 2016

 

 CONTENTS

 Home

 News

 Editorial

 Opinion

 Fauji's Diaries

 Story

 Letters

 Community/Culture

 PW Policy

Ashraf's Articles-1

Ashraf's Articles-2

Ashraf's Urdu Poem

About Us

 
 
 
 

The Life of Jinnah

 

 

 

آ اے دوست

کے اشرف

 

آ اے دوست

سامان سفر باندھیں

اور روانہ ہوں

اُن سرزمینوں کی طرف

اُن ان دیکھی

منزلوں کی طرف

جن کا نشاں کوئی نہیں

 

آ اُس بحر میں ڈالیں

اپنی کشتیاں

جو کناروں سے ہو

نا آشنا

 

آ کہ چلیں

اس صحرا کی طرف

جس کی

بے پایانی کا منظر

چشم ناقہ

کی وخشتوں سے

ہو عیاں

 

یا چلیں

دامن کوہ میں سوئی

اُن وادیوں کی طرف

جہاں کوئی

گھر نہ ہو

کھڑکیاں نہ ہوں

دروازے نہ ہوں

اور

دروازوں پر

تالے نہ ہوں

آہیں نہ ہوں

سسکیاں نہ ہوں

اور

نالے نہ ہوں

 

آ اے دوست

سامان سفر باندھیں

اور روانہ ہوں

ان سرزمینوں کی طرف

اُن ان دیکھی

منزلوں کی طرف

 

جہاں

کون ہو؟

کہاں سے آے ہو"

کے سوال

ہم آشنائی کی

 سماعت کے

بند دروازوں پر

دستک نہ دیں

 

آ اے دوست

سامان سفر باندھیں

اور روانہ ہوں

مشرقی آسماں پر

اس روشن ستارے

کی سمت

اُن ان دیکھی

سرزمینوں کی طرف

جہاں کوئی

پوسٹ مین آے

نہ فون ہو

نہ فون کی گھنٹی بجے

جہاں

چاند ہو

ستارے ہوں

چمکتا سورج ہو

اور

نیلے آسمان میں

دور تک

بل کھاتی ہوئی

ایک پکڈنڈی

ہمارا رستہ ہو

 

آ اے دوست

سامان سفر باندھیں

اور روانہ ہوں

اُن سرزمینوں کی طرف

اُن ان دیکھی

منزلوں کی طرف

 

جہاں کوئی

آے نہ جاے

جہاں کوئی نہ پوچھے

کون ہو؟

کہاں سے آے ہو؟

اور تمہارا

باہمی

رشتہ کیا ہے؟

 

14 اکتوبر2009

برکلے' کیلیفورنیا 

  

Pakistan Weekly - All Rights Reserved

Site Developed and Hosted By Copyworld Inc.