Tuesday September 06, 2016

 

 CONTENTS

 Home

 News

 Editorial

 Opinion

 Fauji's Diaries

 Story

 Letters

 Community/Culture

 PW Policy

Ashraf's Articles-1

Ashraf's Articles-2

Ashraf's Urdu Poem

About Us

 
 
 
 

The Life of Jinnah

 

 

 

 

ٹھرا ہوا منظر

کے اشرف

 

دشت میں ریت اور ہوا کا

جب بھی ہو اختلا ط

کتنے نئے منظر

ابھرتے ہیں

اور صحرا کی وسعتوں

میں دور تک

پھیل جاتے ہیں

 

 سمندر کی سطح پر

جب موجیں ہوا کے ساتھ مل کر

رقص کرتی ہیں

کتنے نئے منظر ابھرتے ہیں

اور ٹوٹ جاتے ہیں

 

جنگلوں میں

اشجار کی لچکیلی شاخیں

ہواوں کے ساتھ مل کر

کتنے نئے منظر بناتی

اور مٹاتی ہیں

 

مگر یا رب

یہ کیسا دیس ہے میرا

کہ جس پر مسلط ہے

عجب آسیب کا سایہ

 

یہاں پر آندھیاں آئیں

بجلیاں کوندیں

یا وخشی طوفانوں کے

ریلے ہوں

 

یہاں

منظر میں ٹھراو ہے

 کچھ ایسا

 

کہ سب کچھ بھی بدل جائے

تو منظر میں

کوئی تبدیلی نہیں آتی

کبھی

تبدیلی نہیں آتی

 

19 ستمبر 2009

 

 

  

Pakistan Weekly - All Rights Reserved

Site Developed and Hosted By Copyworld Inc.